مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 62

مضامین بشیر جلد سوم 62 ہے۔جس سے ہر با غیرت مسلمان کو خواہ وہ کوئی ہو پر ہیز کرنا چاہئے۔حیا ایمان کا حصہ ہے اور حیا کے بغیر کوئی شخص کامل الایمان نہیں سمجھا جا سکتا۔کم از کم ہمارے احمدی بھائیوں کو تو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل۔ایمان اور حیا کے میدان میں دوبارہ زندگی عطا فرمائی ہے ان دو باتوں کوضرور ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اول۔جہاں پانی میسر ہو اور بیماری یا سفر کی مشکلات بھی در پیش نہ ہوں۔وہاں لازماً طہارت اور استنجا کے معاملہ میں پانی کو ترجیح دی جائے۔کیونکہ وہ صفائی کا بہتر ذریعہ ہے اور شریعت نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔دوم۔جہاں کسی مجبوری کی وجہ سے ڈھیلے وغیرہ کا استعمال ناگزیر ہو۔وہاں جس طرح رفع حاجت علیحدگی میں کی جاتی ہے۔استنجا بھی لازماً علیحدگی میں لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو کر کیا جائے۔کیونکہ جیسا کہ قرآن وحدیث ارشاد فرماتے ہیں۔رَبَّنَا حَيِي وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ یعنی ہما را خدا حیادار ہے۔اور پاکیزہ لوگوں کو پسند کرتا ہے۔محرره 11 جنوری 1952 ء) روزنامه الفضل لا ہور 16 جنوری 1952ء) ایک گمنام خط کی شکایت کا جواب حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ایک گمنام خط پہنچا ہے جس میں دفتر حفاظت مرکز ربوہ کے متعلق یہ شکایت کی گئی ہے کہ بعض لوگوں کو قادیان کے قافلہ میں بار بار شمولیت کا موقع دے دیا جاتا ہے اور بعض کی اب تک باری نہیں آئی وغیرہ وغیرہ۔اگر اس گمنام خط کے لکھنے والی بہن اپنا نام لکھ دیتیں۔تو خط کے ذریعہ انہیں تسلی دی جاسکتی تھی کہ ان کا شبہ سراسر حالات کی ناواقفیت پر مبنی ہے۔لیکن اب مجبوراً اخبار کے ذریعہ حقیقت الامر پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔بات یہ ہے کہ ہر قافلہ میں ایک محدود تعداد جو عموماً قافلے کی مجموعی تعداد کی دس فیصدی ہوتی ہے ایسے اصحاب کے لئے ریزرو کھی جاتی ہے جنہیں جماعتی مفاد کے ماتحت قادیان بھجوایا جاتا ہے۔مثلاً مبلغ یا ڈاکٹریا وکیل وغیرہ۔باقی نوے فیصدی تعداد درویشوں کی رشتہ داری کے حق کی بنا پر انتخاب کی جاتی ہے۔پہلی قسم کے اصحاب جو جماعتی مفاد کی بناء پر انتخاب کئے جاتے ہیں۔ان کے بار بار بھجوانے میں کسی شخص کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ان کا انتخاب خالصتنا جماعتی مفاد پر ہوتا ہے۔اور یہی وہ طبقہ ہے جس میں بعض اصحاب کو