مضامین بشیر (جلد 3) — Page 61
مضامین بشیر جلد سوم 61 وغیرہ میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ممکن ہے کہ اس کی وجہ بھی یہی ہو کہ ان اضلاع میں بارش کی قلت کی وجہ سے پانی کم ہوتا ہے لیکن تاہم موجودہ زمانہ کے وسیع ذرائع میں پانی کی قلت عام حالات میں اس حد تک نہیں سمجھی جاسکتی کہ استجا میں ڈھیلے کے استعمال کو ضروری قرار دیا جائے۔مگر اس معاملہ میں زیادہ قابل افسوس امر یہ نہیں ہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے بھی ڈھیلا استعمال کیا جائے۔بلکہ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ استنجا کے اس طریق کو ایسے رنگ میں اختیار کیا جائے۔جو شرم و حیا کے سراسر خلاف ہے۔اگر پانی کی موجودگی میں بھی ڈھیلا ہی استعمال کرنا ہے تو کیوں نہ علیحدگی میں لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو کر یہ کام کیا جائے۔قرآن شریف نے پیشاب پاخانہ کی جگہ کے لئے غائط کا لفظ استعمال کیا ہے۔جس کے معنی عربی زبان میں ایسی جگہ کے ہیں جو شیبی ہونے کی وجہ سے یا کسی دوسری اوٹ میں ہونے کی وجہ سے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔إِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلى سَفَرٍ أَوْجَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمُ مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا(النساء:44) یعنی اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی غائط ( یعنی اوٹ والی جگہ ) میں سے رفع حاجت کر کے ) آئے یا تم اپنی بیویوں کے قریب جاؤ لیکن اس کے بعد تمہیں طہارت کے لئے پانی میسر نہ آئے۔تو اس کی جگہ تم پاک مٹی کا قصد کر کے طہارت حاصل کرلو۔اس آیت میں پاخانہ اور پیشاب سے فارغ ہونے کی جگہ کو غائط کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں یہ صریح اشارہ ہے کہ پیشاب پاخانہ کے لئے ایسی جگہ کو چنا چاہئے جو نشیب وفراز کی وجہ سے یا کسی دوسری اوٹ کی وجہ سے لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو۔علاوہ ازیں اس آیت میں یہ بات بھی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ طہارت کے لئے اصل چیز پانی ہے اور مٹی کے استعمال کی اجازت پانی کے نہ ملنے یا بیماری اور سفر کی مشکلات کی وجہ سے محض ثانوی صورت میں دی گئی ہے۔ان تصریحات کے ہوتے ہوئے بعض مسلمانوں کا پانی کی موجودگی میں ڈھیلے وغیرہ کا استعمال کرنا اور استعمال بھی ایسے رنگ میں کرنا جو شرم وحیا کے طریق کے بالکل خلاف ہے۔کسی صورت میں جائز نہیں سمجھا جاسکتا۔ممکن ہے کہ جس شخص کو میں نے ربوہ میں ڈھیلے کے ساتھ استنجا کرتے دیکھا وہ کوئی غیر احمدی ہو۔کیونکہ ربوہ میں مزدوری وغیرہ کی غرض سے کئی غیر احمدی بھی رہتے ہیں۔لیکن اسلام کی تعلیم صرف احمدیوں کے لئے نہیں ہے بلکہ سب مسلمانوں کے لئے ہے۔اور کسی مسلمان کا لوگوں کے سامنے پاجامہ میں ہاتھ ڈال کر وٹ وانی“ کرتے پھرنا ایک سخت خلاف حیا فعل