مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 60 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 60

مضامین بشیر جلد سوم 60 ہونے پر بہر حال پانی کا استعمال مقدم ہے۔دوسرے ڈھیلے سے استنجا جائز ہونے کا یہ مطلب کس طرح بن گیا کہ شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کے سامنے پبلک رستوں پر پاجامے میں ہاتھ ڈال کر استنجا کیا جائے اور استنجا کو بھی گویا ایک تماشہ بنا لیا جائے۔اسلام میں تو حیا پر اس قدر زور دیا گیا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيْمَان ( صحیح بخاری کتاب الایمان باب الحیاء من الایمان ) یعنی حیا ایمان کا حصہ ہے۔اور ایک دوسری حدیث میں ذکر آتا ہے کہ جب ایک صحابی دوسرے صحابی کو کسی بات میں اس قسم کی نصیحت کر رہا تھا کہ اتنی شرم بھی نہیں چاہتے اور اس کے ان الفاظ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا تو آپ نے فورارک کر نصیحت کرنے والے صحابی سے فرمایا ایسی نصیحت نہ کرو کیونکہ حیا ہر حال میں ایک اچھی صفت ہے اور خود ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اسوہ کے متعلق روایت آتی ہے کہ آپ کنواری لڑکیوں سے بھی بڑھ کر شرم کرنے والے تھے۔کیا ایسی تعلیم دینے والا مذ ہب اس بات کی اجازت دے سکتا یا اس بات کو پسند کر سکتا ہے کہ مسلمان کہلانے والے لوگ پبلک رستوں میں لوگوں کی آنکھوں کے سامنے پاجاموں میں ہاتھ ڈالے ہوئے استنجا کرتے پھریں۔یقیناً یہ فعل حیا کے سخت خلاف ہے جس سے سب بچے مسلمانوں کو پر ہیز کرنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے۔بے شک شریعت نے پانی کی قائمقامی میں ڈھیلا وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے اور ضروری تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ اسلامی شریعت عالمگیر ہے اور عالمگیر شریعت میں ہر قسم کے امکانی حالات کو مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔چونکہ بعض ملکوں میں یا بعض حالات میں پانی کم میسر آتا ہے یا پانی تو موجود ہوتا ہے لیکن بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کے استعمال میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔اس لئے شریعت نے کمال حکمت سے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اگر پانی نہ ملے یا اس کے استعمال سے بیماری وغیرہ کا اندیشہ ہو تو پھر پانی کی جگہ مٹی کا ڈھیلا یا کوئی اور صاف چیز استنجا میں استعمال کر لی جائے اور چونکہ عرب کے ملک میں پانی کی بہت قلت تھی۔اس لئے عربوں نے طبعا اس اجازت سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔لیکن تاریخ سے ثابت ہے کہ جہاں بھی پانی ملتا تھا وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ لازماً پانی کے استعمال کو ترجیح دیتے تھے۔کیونکہ طہارت کے معاملہ میں پانی اصل ہے اور دوسری چیزیں محض ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔لیکن افسوس ہے کہ پاکستان میں بعض مسلمانوں نے شرعی احکام کی حکمت کو نہ سمجھتے ہوئے پانی کے ہوتے ہوئے بھی ڈھیلے وغیرہ کے ذریعہ استنجا کرنے کے طریق کو اختیار کر رکھا ہے۔اور یہ مرض پنجاب کے اضلاع ڈیرہ غازیخاں اور ملتان اور مظفر گڑھ اور میانوالی اور کیمبل پور (اٹک۔ناقل )