مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 732 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 732

مضامین بشیر جلد سوم 732 خصوصاً پاکستان کے مسلمانوں کی آئندہ ترقی یا ( خدا نہ کرے ) تنزل پر بھاری اثر پڑ سکتا ہے (اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کا اثر قومی زندگی میں آہستہ آہستہ ہی ظاہر ہوا کرتا ہے ) اس لئے میں اپنے ان نوٹوں کو آخری صورت دینے سے قبل انہیں موجودہ ابتدائی حالت میں ہی شائع کر رہا ہوں تا کہ مجھے بھی مزید غور کا موقع مل سکے۔اور جو ہمدردانِ ملک و ملت اس بارے میں کچھ خیال ظاہر کرنا چاہیں ان کے خیالات کا بھی مجھے علم ہو جائے۔چونکہ میں نے بچپن سے ہی خالصتہ مذہبی ماحول میں پرورش پائی ہے اس لئے طبعاً میرے ان نوٹوں میں مذہبی نظریات کا عنصر غالب ہے۔لیکن چونکہ اسلام نے اپنے حکیمانہ نظام میں دوسرے پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا اس لئے میرے یہ نوٹ کسی قدر ان پہلوؤں کی چاشنی سے بھی خالی نہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس اہم مضمون کو ایسی صورت میں مکمل ومرتب کرنے کی توفیق دے جو پاکستان کے لئے بہترین نتائج کی حامل ہو۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (محرره 5 نومبر 1959ء) روزنامه الفضل ربوه 14 نومبر 1959ء) رسالہ "عید کی قربانیاں اور حضرت مسیح موعود کا ایک لطیف فتویٰ خدا کے فضل سے میرا تصنیف کردہ رسالہ ”عید کی قربانیاں“ شائع ہو گیا ہے جس میں اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر ضروری بحث آگئی ہے۔یعنی ان قربانیوں کا پس منظر، ان کا وجوب ، ان کی شرائط اور ان کی حکمت اور امکانی خدشات کا جواب وغیرہ۔جو دوست یہ رسالہ منگوانا چاہیں وہ نظارت اصلاح وارشادر بوہ سے منگوا سکتے ہیں۔اس کی اشاعت انشاء اللہ غیر احمدی احباب میں بھی مفید ہوگی۔رسالہ کا حجم 72 صفحے ہے۔اس رسالہ کی اشاعت کے بعد مجھے مولوی قمر الدین صاحب کے ذریعہ اس مسئلہ کے متعلق ایک حوالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی مل گیا ہے۔حضور کی خدمت میں ایک شخص نے خط کے ذریعہ عرض کیا تھا کہ : میں نے تھوڑی سی رقم ایک قربانی میں حصہ کے طور پر ڈال دی تھی۔مگر بعد میں دوسرے حصہ داروں نے مخالفت کی وجہ سے مجھے اس حصہ سے خارج کر دیا۔اگر اب میں یہ رقم قادیان کے مسکین فنڈ میں دے دوں تو