مضامین بشیر (جلد 3) — Page 731
مضامین بشیر جلد سوم 731 جرمن عورتوں کی بھی غیر معمولی ہمت افزائی کی گئی (معین حوالہ تلاش کیا جارہا ہے )۔اسی طرح مارشل پیٹیان کا مشہور قول ہے کہ فرانس کو جرمنی کے مقابل پر جنگ میں زیادہ تر اس لئے مغلوب ہونا پڑا کہ فرانس میں نوجوانوں کی تعداد ( برتھ کنٹرول کی وجہ سے ) بہت گر گئی تھی۔غالباً ان کے الفاظ یہ تھے کہ " کو فیو چلڈرن (Too few children) یعنی فرانس میں ملکی ضرورت سے کم نوجوان رہ گئے تھے۔( متعین حوالہ تلاش کیا جارہا ہے) بلکہ آج ہی اخباروں میں کینیڈا کی رکن پارلیمنٹ مارگرٹ اٹیکن کا بیان چھپا ہے جو اس خاتون نے عوامی چین کے دورے کے بعد دیا ہے۔اس بیان میں مارگرٹ اٹیکن فرماتی ہیں کہ : سرخ چین میں ضبط تولید کو اچھا نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔چین میں کمیونسٹوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز قائم کئے گئے تھے لیکن اب ان کو بند کر دیا گیا ہے۔حالانکہ چین دنیا بھر کے ملکوں میں سب سے زیادہ آباد ملک ہے۔“ (نوائے وقت تاریخ 4 نومبر 1959ء) بہر حال کئی ملک برتھ کنٹرول کے تجربہ کے بعد پھر اس نظام کو بدلنے کی طرف لوٹے ہیں۔چنانچہ قرآن مجید بھی اصولی طور پر اس امکانی خطرہ کے پیش نظر فرماتا ہے کہ: تِلْكَ الأَيَّامُ نُدا ولُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران: 141) یعنی قوموں کے حالات میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔اس لئے ہوشیار ہو جاؤ۔نیز فرماتا ہے: وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر: 19) یعنی انسان کو چاہئے کہ جب وہ کوئی کام کرنے لگے تو اس کے تمام امکانی نتائج اور مستقبل کے حالات کو سامنے رکھ کر قدم اٹھائے تا کہ جلدی میں یا کسی وقتی اثر کے ماتحت کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔اس سے ظاہر ہے کہ محض کسی وقتی رو میں بہہ کر کوئی قدم اٹھانا یا دوسروں کی کورانہ تقلید کرنا ہرگز دانشمندی کا طریق نہیں ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کو کبھی جنگ پیش نہیں آئے گی ؟ اور پھر فوجیوں میں نسلی اور خاندانی روایات بھی چلتی ہیں اور زیادہ تر فوجیوں کے بچے ہی فوج میں جاتے اور اچھے سپاہی بنتے ہیں فَافُهُمْ وَتَدَبَّرُ - (36) اوپر کے چند مختصر سے نوٹوں میں میں نے ” خاندانی منصوبہ بندی‘یا برتھ کنٹرول کے متعلق اپنی ابتدائی تحقیق کا خلاصہ درج کیا ہے۔لیکن چونکہ یہ ایک نہایت اہم مضمون ہے جس سے مسلمانوں اور