مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 700 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 700

مضامین بشیر جلد سوم 700 اس کی نظیر لانے سے عاجز ہے۔یہ ہمہ گیر فضیلت کسی اور نبی ( حضرت عیسی یا حضرت موسی یا حضرت ابراہیم علیہم السلام ) کو حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی تھی۔کیونکہ وہ محدود قوموں اور محمد و دزمانوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے۔اور ہمارے آقا ( فدا نفسی ) کی بعثت عالمگیر تھی۔عبادت اور دعاؤں میں شغف کا یہ عالم تھا کہ بسا اوقات لمبی لمبی نمازوں میں کھڑے رہنے سے آپ کے پاؤں میں ورم آجاتی تھی اور جب اس پر آپ کی بعض ازواج نے ازراہ ہمدردی عرض کیا کہ آپ کو تو خدا تعالیٰ نے یہ مقام بخشا ہے کہ سب اگلی پچھلی فروگزاشتیں معاف ہیں تو آپ نے بے ساختہ فرمایا کہ اَفَلَا اكُوْنَ عَبْداً شَكُورًا۔یعنی بے شک یہ خدا کی رحمت ہے کہ اس نے مجھے یہ مقام بخشا ہے مگر کیا میرے لئے یہ واجب نہیں کہ میں خدا کا شکر گزار بندہ بنوں ؟ دعاؤں میں گریہ وزاری کا یہ عالم تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض اوقات انتہائی درد و کرب کی وجہ سے دعاؤں میں آپ کی یہ حالت ہوتی تھی کہ گویا کوئی ہنڈیا چو لہے پر رکھی ہوئی اہل رہی ہے۔اور آپ خدائی رحمت و شفقت کے اتنے پیاسے تھے کہ ایک دفعہ آپ کے صحابی ابی بن کعب ( غالباً یہی نام تھا) کسی سفر پر جاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں رخصت کرنے کے بعد پیچھے سے آواز دے کر فرمایا لَا تَنْسَانَا فِي دُعَائِكَ يَا أَخِی۔یعنی اے میرے بھائی ! سفر میں ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ یہ روایت فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے رو دیا کرتے تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب تھا تو ایک رات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ آپ کا بستر خالی ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ شائد آپ کسی اور بیوی کے گھر تشریف لے گئے ہوں گے۔چنانچہ انہوں نے دوسرے گھروں میں اِدھر اُدھر دیکھا اور وہاں نہ پا کر احتیاطاً قریب کے قبرستان جنت البقیع نامی میں تشریف لے گئیں۔وہاں دیکھا کہ آپ زمین پر لیٹے ہوئے بلکہ زمین کے ساتھ چھٹے ہوئے بے حد گریہ وزاری کے ساتھ اپنے بچھڑے ہوئے صحابیوں کے لئے دعا فرمار ہے ہیں۔اپنے آقا کی نصرت پر توکل کا یہ مقام تھا کہ جب غزوہ حنین میں ایک اچانک حملہ کے باعث بعض نو مسلموں کی کمزوری کی وجہ سے صحابہ کے بھی پاؤں اکھڑ گئے اور دشمن کے ٹڈی دل کے سامنے میدان قریباً خالی ہو گیا تو آپ ایک پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہے اور اپنے ایک سہمے ساتھی سے فرمایا کہ ” میرے گھوڑے کی لگام تھام لوتا کہ وہ بھی وحشت کھا کر بھاگ نہ نکلے اور پھرا کیلیے دم اپنے گھوڑے کو زور کی ایڑھ لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور للکار کر فرمایا: