مضامین بشیر (جلد 3) — Page 701
مضامین بشیر جلد سوم ــــا الـــــنــــــ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبُ 701 یعنی میں خدا کا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں اور گو میں ایک انسان عبدالمطلب کا بیٹا ہوں مگر میرا سہارا خدا کی ذات ہے۔بیٹا بنے کی یہ شان تھی کہ جب ایک دفعہ بڑھاپے کی عمر میں آپ اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے جنہیں فوت ہوئے پچاس سال ہو چکے تھے ( جبکہ عزیزوں کی جدائی کا غم عمو م ختم ہو چکتا ہے ) تو رقت جذبات کے وفور سے آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا فوارہ پھوٹ نکلا۔اور آپ نے اپنے ساتھیوں سے درد بھری آواز میں فرمایا کہ خدا نے مجھے والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت تو دی مگر قبر پر دعا کرنے کی اجازت نہیں دی۔تاکہ دوسرے مسلمانوں کے لئے اپنے مشرک عزیزوں کے تعلق میں کوئی کمز ور نمونہ قائم نہ ہو بلکہ ان کے معاملہ کو خدا پر چھوڑا جائے۔پھر ماں تو ماں جب ایک دفعہ آپ کی رضاعی والدہ آپ سے ملنے آئیں تو آپ انہیں دیکھ کر بے چین ہو گئے اور فوراً ادب کے ساتھ اٹھ کر ان کے بیٹھنے کے لئے اپنے اوپر کی چادر بچھا دی۔اور جب آپ کے مشرک مگر محسن چچا ابوطالب جنہوں نے آپ کو آپ کے دادا کی وفات کے بعد اپنے بچوں کی طرح پالا تھا فوت ہونے لگے تو آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑی محبت کے ساتھ فرمایا چا میں خدا کی طرف سے حق کا پیغام لے کر آیا ہوں اور آپ کا وقت اب قریب معلوم ہوتا ہے آپ اپنی زبان سے ایک دفعہ کلمہ کے الفاظ دہرا دیں مجھے یقین ہے کہ اس کی وجہ سے خدا آپ کی مغفرت فرمائے گا۔ابوطالب اس کے لئے تیار ہوتے نظر آتے تھے مگر پھر مشرک رؤسا کی موجودگی سے متاثر ہو کر کہا۔بھتیجے تم بہت مجھے عزیز ہومگر مجھے اپنے باپ دادا کے مذہب پر ہی رہنے دوور نہ لوگ کہیں گے ابو طالب موت سے ڈر گیا۔آپ چشم پر آب ہوتے ہوئے وہاں سے اٹھے اور یہ فرماتے ہوئے باہر نکل گئے کہ چچا میں پھر بھی آپ کے لئے دعا کرتا رہوں گا سوائے اس کے خدا مجھے اس سے روک دے۔( یہ والدہ کی قبر پر جانے سے بہت پہلے کی بات ہے ) پھر خدا نے آپ کو اولاد سے بھی نوازا اور آپ خدا کے فضل سے بہترین اور شفیق ترین باپ ثابت ہوئے۔حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسین آپ کے نواسے تھے جو ہجرت کے بعد مدینہ میں پیدا ہوئے۔وہ بچپن کے غیر شعوری زمانہ میں بعض اوقات جب کہ آپ نماز میں سجدہ کرتے تھے آپ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے تھے اور ایسے اوقات میں آپ اپنا سجدہ لمبا کر دیتے تھے تا بچوں کو تکلیف نہ ہو۔ایک دفعہ محبت کے