مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 699 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 699

مضامین بشیر جلد سوم 699 نہ قائم کیا ہو۔اسی لئے قرآن مجید نے آپ کے متعلق فرمایا ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولُ اللَّهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی اے بنی نوع انسان ! تمہارے لئے ہمارے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اخلاق کے ہر میدان میں بہترین نمونہ موجود ہے۔نیز فرمایا وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلْعَالَمِينَ یعنی اے محمد ( صلى الله علیہ وسلم )! ہم نے تجھے تمام قوموں اور تمام زمانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔پس اس بات میں ذرا بھر بھی شک نہیں اور تاریخ اس پر شاہد ہے کہ آپ کی تعلیم اور آپ کے اسوہ میں ہر روحانی بیماری کی دوا اور ہر اخلاقی روک کا علاج موجود ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔حسن یوسف دم عیسی ید بیضا داری آنکہ خوباں ہماں دارند تو تنہا داری جماعت احمدیہ کے مقدس بانی علیہ السلام نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور توصیف اور مدح میں جو کچھ لکھا ہے اور فرمایا ہے اس کی ان تیرہ سو سالوں میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔اور جیسا کہ دشمنوں تک نے مانا ہے آپ کی بعض عبارتیں پڑھ کر حقیقتاً وجد کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔مگر آ جا کے آپ نے بھی اپنی مدح سرائی کو اسی ندائے حق پر ختم کیا ہے جو ایک طرح سے گو یا الفاظ کی کوتاہ دامنی کا اظہار ہے کہ : اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد ہست برہان یعنی اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی کمال اور اخلاقی برتری کی دلیل چاہتے ہو تو باوجود بہت کچھ لکھنے اور بہت کچھ کہنے کے میں بالآخر یہ کہتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دلیل خود محمد کا وجود ہے۔اس کے عاشقوں میں داخل ہو کر دیکھو کہ وہ کیسا چمکتا ہوا سورج اور کتنی ٹھنڈک پہنچانے والا چاند ہے۔اور جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال اور آپ کا اسوہ کسی ایک میدان یا روحانیت اور اخلاق کے کسی ایک پہلو سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ہمہ گیر اور عالمگیر ہے۔آپ بیٹے بھی بنے اور باپ بھی ہوئے۔یتیم بھی بنے اور کچھ عرصہ کے لئے ماں اور دادا کا سایہ بھی پایا۔خاوند بھی بنے اور ایک سے زیادہ بیویوں کی مساوات کا سلوک بھی دکھایا۔غربت بھی دیکھی اور ثروت کے زمانہ کا نمونہ بھی قائم کیا۔جنگوں میں قائد بھی اور امن کے زمانہ میں حکومت کا اسوہ بھی دکھایا۔فتوحات بھی پائیں اور عارضی شکست میں صبر و ہمت کا جو ہر بھی اجاگر کیا۔قوموں کے ساتھ معاہدات بھی کئے اور معاہدات کے توڑے جانے پر دشمنوں کو اپنی عفو بخشش سے رام بھی کیا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ محبت و عبادت الہی کا وہ نمونہ دکھایا کہ دنیا کی تاریخ