مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 686 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 686

مضامین بشیر جلد سوم 686 کے مناسب حال اہلیت کا مفہوم بدل جائے گا۔مثلاً جماعت احمدیہ کے حالات کے لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر کسی مقامی جماعت میں امیر یا صدر کے انتخاب کا سوال ہو تو لازماً اہلیت کا مفہوم زیادہ وسیع صورت میں اور زیادہ وسیع پہلوؤں کے لحاظ سے مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔اور اگر سیکرٹری مال کا تقرر ہونا ہوتو اور قسم کی اہلیت دیکھنی ہوگی۔اور اگر سیکرٹری تبلیغ کا سوال ہو تو اس کے مناسب حال اوصاف تلاش کرنے ہوں گے۔اور اگر سیکرٹری تعلیم کا انتخاب ہونا ہو تو اس کے لئے شعبہ تعلیم کی اہلیت مدنظر رکھنی ہوگی۔اور اگر سیکرٹری امور عامہ کے تقرر کا سوال ہو تو اس کے لئے عمومی رنگ کی انتظامی اہلیت دیکھنی ضروری ہوگی وعلی ہذا القیاس۔الغرض قرآنی تعلیم کے مطابق ہر عہدہ اور ہر کام کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ اہلیت مدنظر رکھنی ضروری ہے۔جماعتی عہد یداروں کے لئے عمومی اوصاف اس اصولی تعلیم کے ماتحت جماعت احمدیہ کے عہدہ داروں کے معاملہ میں ذیل کے عمومی اوصاف کو مد نظر رکھنا ہو گا۔گو مختلف عہدہ داروں کے لئے ان کے عہدہ کی نوعیت کے لحاظ سے بہر حال بعض مخصوص اوصاف کو ملحوظ رکھنا زیادہ ضروری سمجھا جائے گا۔(1) ہر عہدہ دار مخلص اور پختہ احمدی ہو جو خلافت احمدیہ کے ساتھ دلی عقیدت اور اخلاص اور وفاداری کا تعلق رکھتا ہو اور جماعت کے مرکزی نظام کے ساتھ مخلصانہ تعاون کی پالیسی پر قائم ہو۔ورنہ جماعت ایک ایسی گاڑی کا رنگ اختیار کرے گی جس کا ایک گھوڑا اسے ایک طرف کھنچتا ہو اور دوسرا گھوڑا دوسری طرف۔(2) ہر عہدہ دار سلسلہ احمدیہ کی تعلیم اور جماعت کے عقائد اور جماعت کی حد بندیوں سے واقفیت رکھتا ہوتا کہ وہ نہ صرف مقامی احمدیوں کی نگرانی کر سکے بلکہ اس کا اپنا عمل بھی دوسروں کے لئے نمونہ ہو۔(3) وہ اپنے حلقہ کے احمدیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعارف رکھتا ہوتا کہ حسب ضرورت ان کا خیال رکھ سکے اور ان کی دیکھ بھال کر سکے اور کسی مقامی اختلاف کی صورت میں مصالحت کرانے کی اہلیت اور جذبہ رکھتا ہو اور جماعتی اتحاد کی قدر و قیمت کو پہچانتا ہو جسے افسوس ہے کہ کئی لوگ نہیں پہچانتے اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں تفرقہ پیدا کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔(4) وہ چوکس دماغ رکھتا ہوتا کہ اس کے حلقہ میں کوئی مشتبہ یا فتنہ پرداز شخص ہو تو اس پر نگاہ رکھ کر ضروری کارروائی کر سکے اور مرکزی عہدہ داروں کو بھی وقت پر اطلاع دے سکے۔