مضامین بشیر (جلد 3) — Page 687
مضامین بشیر جلد سوم 687 (5) اس کے مزاج میں نہ تو نا واجب سختی ہو کہ لوگ اس کی سختی اور خشونت کی وجہ سے اس سے دور بھا گئیں اور نہ نا واجب نرمی ہو کہ حقیقی ضرورت کے وقت بھی گرفت نہ کر سکے۔مگر اس کی سختی میں بھی پدرانہ انداز کی چاشنی ہونی چاہئے۔(6) وہ مستورات کی بہبودی اور بچوں اور نوجوانوں کی تربیت کا خاص جذ بہ اور ملکہ رکھتا ہو۔مستورات قومی ترقی میں نصف کی حصہ دار اور بچوں کی تربیت کی اتنی فیصدی ذمہ دار ہوتی ہیں۔اور نوجوانوں کی اصلاح جماعت کی دائمی ترقی کی ضامن ہوا کرتی ہے۔(7) وہ احمدی دکانداروں اور تاجروں اور صناعوں اور پیشہ وروں پر خاص نگاہ رکھ سکے تاکہ ان کا معاملہ صداقت اور صفائی اور دیانتداری اور ہمدردی مخلق کے اصول پر مبنی ہو اور غیر از جماعت لوگوں کے لئے ٹھوکر کی بجائے کشش اور نیک نامی کا باعث بنے۔(8) وہ اپنے حلقہ کے قتیموں اور بیواؤں اور غریبوں اور بے بسوں اور بیماروں کے ساتھ ہمدردی اور شفقت کا سلوک رکھنے کا عادی ہو۔مگر اس کے ساتھ ہی اس بات کا خیال بھی رکھے کہ لوگوں میں بیکار رہ کر بلا وجہ سوال کرنے کی عادت نہ ترقی کرے جو قومی اخلاق کے لئے تباہ کن ہے۔(9) وہ متقی اور خدا ترس اور اعمال صالحہ بجالانے والا ہو اور نیک تحریکات میں آگے آکر حصہ لینے کا عادی ہو اور جہاں تک ممکن ہو اور سہولت میسر ہو با جماعت نماز کا پابند ہو۔اور دعاؤں میں شغف رکھتا ہوتا کہ وہ ایک خدائی جماعت کا ذمہ دار افسر بن سکے۔( 10 ) وہ جماعتی چندوں میں حسب توفیق ذوق و شوق سے حصہ لیتا ہوتا کہ دوسروں کے لئے نمونہ بنے اور اس کی کاہلی کی وجہ سے دوسروں میں مالی قربانی کے معاملہ میں سستی نہ پیدا ہونے پائے بلکہ ترقی ہو۔اور وہ چندوں کے لئے مؤثر تحریک کرنے کا ملکہ بھی رکھتا ہو۔جماعتی چندے جماعتی تنظیم کے لئے گویا ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں جن پر ہمارے تبلیغی اور تعلیمی اور تربیتی اور تنظیمی پروگرام کی کامیابی کا بڑی حد تک دارو مدار ہے۔یہ وہ دس مختصری باتیں ہیں جن کا جماعتی عہدہ داروں میں بالعموم پایا جانا ضروری ہے تا کہ وہ کامیابی اور خوش اسلوبی اور خوش انتظامی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر سکیں۔اور جماعتی عہدہ دار چننے والوں کو بھی انہی اوصاف کے پیش نظر عہدہ داروں کا انتخاب کرنا چاہئے۔اور اس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ ایک نہایت مقدس امانت ہے جسے غلط طریق پر استعمال کرنا خدا تعالیٰ کا بھاری گناہ اور جماعت سے خطرناک