مضامین بشیر (جلد 3) — Page 685
مضامین بشیر جلد سوم 685 بالعدل (النساء:60) یعنی اے مسلمانو! تمام جماعتی اور قومی عہدے خدا کی طرف سے ایک امانت ہیں۔سو اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس امانت کو ہمیشہ اس کے اہل لوگوں کے سپر د کیا کرو اور پھر جولوگ عہدہ دار مقرر ہوں ان کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے فرائض کو پورے عدل وانصاف کے ساتھ کیا کریں۔یہ لطیف آیت قومی عہدوں اور عہدہ داروں کے انتخاب کے بارے میں اسلامی احکام کا گویا نچوڑ اور لب لباب ہے۔اس میں پہلے تو یہ بتایا گیا ہے کہ تمام قومی اور جماعتی عہدے خدا کی طرف سے ایک امانت ہوتے ہیں۔جسے ہمیشہ ایک مقدس امانت سمجھتے ہوئے پوری ذمہ داری اور پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرنا چاہئے۔یہ حکم ووٹوں کے ذریعہ عہدیدار چنے والوں یا اپنے حکم کے ذریعہ کسی شخص کو کسی عہدہ پر مقرر کرنے والوں ہر دو کے لئے ہے۔ان دونوں طبقوں کے لئے ضروری ہے کہ اس بات کو پختہ طور پر یا درکھیں کہ جماعتی اور قومی عہدہ داروں کے انتخاب یا تقر ر کا معاملہ ایک بڑی اہم خدائی امانت ہے جسے پوری دیانت داری اور پورے سوچ و بچار کے ساتھ بلالحاظ دوستی و دشمنی و بلالحاظ پارٹی بازی و جتھہ بندی خالصہ قومی اور جماعتی مفاد میں ادا کرنا چاہئے۔اور پھر جو لوگ کسی عہدہ پر مقرر ہوں (خواہ بذریعہ ووٹ یا بذریعہ تقرر ) ان کے لئے خدا کا یہ حکم ہے کہ اپنے فرائض کو پورے پورے عدل وانصاف کے لئے بلاخوف لومتہ لائم ادا کریں اور اپنے عہدہ کو ایک خدائی امانت سمجھیں جس میں کسی نوع کی خیانت کرنا یا بدعنوانی کا مرتکب ہونا خدائی امانت میں خیانت کرنے کے مترادف ہوگا۔جس کے لئے ان کو خدا کے سامنے اور قوم کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا۔اور یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں عدل کے لفظ سے صرف دو آدمیوں کے درمیان عدل کرنا ہی مراد نہیں بلکہ افراد اور قوم کے درمیان عدل کرنا اور دوست اور دشمن کے درمیان عدل کرنا اور ہر اندرونی اور بیرونی معاملہ میں عدل کے تر از وکو استوار رکھنا بھی مراد ہے۔اس تعلق میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن مجید نے کمال حکمت سے اس آیت میں قومی اور جماعتی عہدہ داروں کے لئے کوئی خاص وصف معین نہیں کیا۔مثلاً یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص کو عہدہ دار چنا جائے وہ بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہو یا بڑی وجاہت کا مالک ہو یا بڑا دولت مند ہو یا بڑی عمر کا بزرگ ہو یا خاص طور پر بڑا نمازی یا روزہ دار ہو وغیرہ وغیرہ۔بلکہ قرآن مجید نے صرف اهلها کا جامع لفظ استعمال کیا ہے۔جس میں وہ تمام اوصاف شامل ہیں جو کسی عہدے کے لئے ضروری سمجھے جائیں۔پس اصل چیز جو کسی عہدہ دار کے انتخاب یا تقریر میں مدنظر رکھنی ضروری ہے۔وہ قرآنی تعلیم کے ماتحت اہلیت اور صرف اہلیت ہے اور ظاہر ہے کہ ہر عہدہ