مضامین بشیر (جلد 3) — Page 646
مضامین بشیر جلد سوم 646 كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبیله بنی اسرائیل: 48-49) یعنی ہم جانتے ہیں کہ جب یہ لوگ مخفی مشورے کرتے ہیں جب ظالم لوگ کہتے ہیں کہ اے مسلمانو! تم تو ایک سحر زدہ شخص کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔دیکھ اے رسول ! یہ لوگ تیرے متعلق کیسی کیسی جھوٹی مثالیں گھڑتے ہیں۔پس وہ یقینا گمراہ ہیں اور اس حالت میں وہ سیدھے رستہ کی طرف کبھی ہدایت کی توفیق نہیں پاسکتے۔اب دیکھو کہ یہ آیت کیسی واضح اور کیسی قطعی اور کیسی صاف ہے اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کافر اور ظالم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء کے طریق پر سحر زدہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔مگر خدا فرماتا ہے کہ ہم ان لوگوں کی سازشوں کو جانتے ہیں۔یہ لوگ جھوٹے اور مفتری ہیں اور صداقت کے پاس تک نہیں پھٹکے۔گویا ایک طرف کافروں کا جھوٹا الزام بیان کیا ہے اور دوسری طرف اس کی نہایت زوردار الفاظ میں تردید فرمائی ہے۔کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی شہادت ہو سکتی ہے؟ اور لطف یہ ہے کہ اس سورۃ کا نام بھی بنی اسرائیل ہے۔تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے جو صحیح بخاری تک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان ہوا ہے۔سواگر واقعہ کے سیاق و سباق اور یہودیوں اور منافقوں کے طور طریق کو مد نظر رکھ کر غور کیا جائے تو اس واقعہ کی حقیقت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔سب سے پہلے تو یہ جانا چاہئے کہ اس مزعومہ سحر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے (دیکھو طبقات ابن سعد ) جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک رؤیا کی بناء پر عمرہ کی غرض سے مکہ تشریف لے گئے تھے مگر رستہ میں قریش کے روکنے کی وجہ سے بظاہر نا کام لوٹنا پڑا۔و یہ ظاہری نا کامی ایک ایسا بھاری صدمہ تھی کہ کافروں اور منافقوں نے تو مذاق اور طعن و تشنیع سے کام لینا ہی تھا۔بعض مخلص مسلمان حتی کہ ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بلند پایہ بزرگ بھی اس ظاہری ناکامی کی وجہ سے وقتی طور پر متزلزل ہو گئے تھے (دیکھو بخاری وغیرہ ) ان حالات کا کمزور طبیعت کے لوگوں کے ابتلاء کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر طبعا کافی اثر تھا اور آپ کچھ عرصہ تک بہت فکر مند رہے اور لازماً اس فکر کا اثر آپ کی صحت پر بھی پڑا اور آپ اس گھبراہٹ میں خدا کے حضور کثرت سے دعا ئیں فرماتے تھے۔جیسا کہ حدیث کے الفاظ دَعَا وَ دَعَا وغیرہ میں اشارہ ہے۔تا کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کی وجہ سے اسلام کی ترقی میں کوئی وقتی روک نہ پیدا ہونے پائے۔یہ اسی قسم کی دعا تھی جیسی کہ آپ نے بدر کے میدان میں خدا کی طرف سے کامیابی کا وعدہ ہونے کے باوجود دشمن کی ظاہری طاقت کو دیکھ کر فرمائی تھی