مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 645 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 645

مضامین بشیر جلد سوم 645 ڈالیں اور پھر ان کے سحر (یعنی علم توجہ کے زور سے موسٹی کے خیال میں یہ رسیاں (سانپوں کی طرح ) دوڑتی پھرتی نظر آئیں۔مگر جب حضرت موسی نے خدا کے حکم سے اپنا عصا پھینکا تو اس نے ان خیالی سانپوں کو آنا فانا ملیا میٹ کر کے رکھ دیا اور ساحر مغلوب ہو کر سجدہ میں گر گئے۔چنانچہ اس تعلق میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّحِرُ حَيْثُ أَتى (طه: 70) یعنی ان ساحروں نے جو کرتب دکھایا وہ صرف سحر ( یعنی علم توجہ ) کی کارستانی تھی مگر نبیوں کے مقابل پر ایک ساحر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا خواہ وہ کوئی تدبیر اختیار کرے اور خواہ کسی رستے سے آئے۔اس آیت کا آخری حصہ یعنی لَا يُفْلِحُ الشجرُ حَيْثُ حضرت موسیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ایک عام اصول کے رنگ میں ہے اور سب رسولوں اور نبیوں کے ساتھ یکساں تعلق رکھتا ہے۔لیکن اگر بفرض محال اسے حضرت موسی کے قصہ سے ہی متعلق سمجھا جائے تو تب بھی اس بات کو کس طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل اور خاتم النبین تھے۔جنہوں نے فرمایا ہے اور بالکل حق فرمایا ہے کہ: لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّيْنِ لِمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی۔(الیواقیت والجواھر جلد 2 صفحہ 22) یعنی اگر موسیٰ اور عیسی میرے وقت میں زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع اور میری اطاعت کے سوا چارہ نہ ہوتا۔تو جب حضرت موسی کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا يُفْلِحُ السَّجِرُ حَيْثُ ( یعنی ایک ساحر خواہ کوئی تدبیر اختیار کرے اور خواہ کسی رستہ سے آئے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا) تو کیا نعوذ باللہ نبیوں کے سردار اور سید الاولین والآخرین ہی ایسے رہ گئے تھے کہ مدینہ کا ایک ذلیل یہودی آپ کو اپنی سحر کاری کا ہدف بنا کر لوگوں کی ہنسی کا نشانہ بناتا اور تجربہ کی رو سے بھی علم توجہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ دل و دماغ کے لحاظ سے زیادہ طاقت والا انسان کمزور طاقت والے انسان پر اثر ڈالتا ہے نہ یہ ایک کمزور انسان زیادہ طاقت والے انسان کو مغلوب کر لے!!! مگر میں کہتا ہوں کہ ہمیں اس معاملہ میں بالواسطہ دلیلوں کی بھی حاجت نہیں۔کیونکہ قرآن مجید خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بلا واسطہ سحر کی زور دارنفی کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: نَحْنُ أَعْلَمُ۔۔۔إِذْ هُمْ نَجْوَى إِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُوْنَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا أَنْظُرْ