مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 647 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 647

مضامین بشیر جلد سوم 647 كه اللهُمَّ أَنْ تَهْلَكَ هَذِهِ الْعَصَابَةَ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ - اس پر مزیدا تفاق یہ ہوا کہ آپ نے انہی فکر کے ایام میں اپنے سر مبارک میں درد وغیرہ کے دفعیہ کے لئے سینگیاں بھی لگوائیں۔( دیکھو زاد المعاد اور فتح الباری وغیرہ ) جس سے وقتی طور پر مزید ضعف پیدا ہوا جو گوشت پوست کے قانون کا لازمہ ہے۔ان وجوہات سے آپ کے اعصاب اور آپ کی قوت حافظہ پر کافی اثر پڑا اور آپ کچھ عرصہ کے لئے مرض نسیان میں مبتلا ہو گئے۔جو ایک لازمہ بشری ہے جس سے خدا کے نبی تک مستی نہیں۔جب یہودیوں اور منافقوں نے یہ دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آج کل بیمار ہیں اور ضعف اعصاب اور ضعف دماغ کی وجہ سے آپ کو نسیان کا مرض لاحق ہے تو انہوں نے حسب عادت فتنہ کی غرض سے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے اور یہ کہ آپ کا یہ نسیان وغیرہ اسی سحر کا نتیجہ ہے۔اور انہوں نے اپنے قدیم طریق کے مطابق ظاہری علامت کے طور پر ایک کنوئیں کے اندر کسی کنگھی میں بالوں کی گر ہیں وغیرہ باندھ کر اسے دیا بھی دیا۔جب ان کے اس مزعومہ سحر کی اطلاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس فتنہ کے سد باب کے لئے خدا کے حضور مزید دعا فرمائی اور اپنے آسمانی آقا سے استدعا کی کہ وہ اس فتنہ کے بانی مبانی کے نام اور اس کے مزعومہ سحر کے طریق سے آپ کو مطلع فرمائے تا آپ اس باطل سحر کا تار پود بکھیر سکیں۔چنانچہ خدا نے آپ کی مضطربانہ دعاؤں کو سنا اور ذیل کی رؤیا کے ذریعہ آپ پر اصل حقیقت کھول دی۔عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيْلُ إِلَيْهِ إِنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْءَ وَمَا فَضْلُهُ وَفِى رَوَايَةِ كَذَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَاتِي أَهْلَهُ وَلَا يَاتِي حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَومِ وَهُوَ عِنْدِى دَعَا اللَّهَ وَ دَعَاهُ وفى رواية دَعَا وَ دَعَا) ثُمَّ قَالَ أَشْعَرُتِ يَا عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ قَد أَفْتَانِى فِيْمَا اسْتَفَتْيْتُهُ فِيهِ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - قَالَ جَاءَ نِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدَهُمَا عِنْدَ رَأْسِى وَلا خَرُ عِنْدَ رِجْلِى ثُمَّ قَالَ أَحَدَهُمَا لِصَاحِبِهِ وَجُعُ الرَّجُلِ - قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعَصَمِ يَهُودِي مِنْ بَنِي زُرِيقٍ وَفِي رَوَايَةٍ وَكَانَ مُنَافِقاً - قَالَ فِي مَاذَا وَ قَالَ فِي مَشْطٍ وَ مَشَاطَةٍ وَجَفَ طَلْعِهِ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِثْرِ ذَرُوَانِ قَالَتْ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنَاسِ مِنْ أَصْحَابِهِ أَفِي الْبِئُرَ - فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَ عَلَيْهَا نَخْلٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَىٰ عَائِشَةَ فَقَالَ وَاللَّهُ لَكَأَنَّ مَاء هَا نَقَاعَةُ الْحِنَاءِ وَلَكَأَنَّ نَخْلُهَا رُوسُ الشَّيَاطِيْنِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ