مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 611 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 611

مضامین بشیر جلد سوم 611 ڈالے رہتی ہے اور جماعت سرعت کے ساتھ پھیلتی چلی جارہی ہے۔پھر 1953ء کا زلزلہ بھی کوئی معمولی زلزلہ نہیں تھا جس میں جماعت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی سکیم بنائی گئی تھی۔مگر یہ آندھی بھی حضرت خلیفتہ المسیح کی دعاؤں اور حکیمانہ تدابیر سے ایک منہ کی پھونک بن کر رہ گئی اور خدا نے جماعت کی غیر معمولی حفاظت فرمائی اور اس کا خدمت دین کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔اور اس سارے عرصہ میں حضور نے جو علمی خدمات سرانجام دیں وہ حضور کی بے نظیر تصانیف اور جلسہ سالانہ کی تقاریر اور پھر مقدمہ قرآن مجید اور تفسیر کبیر اور تفسیر صغیر وغیرہ سے ظاہر وعیاں ہیں جن کے لوہے کو دنیا مانتی ہے۔ابھی کل کی بات ہے کہ ربوہ میں ایک غیر احمدی پر و فیسر آیا جو فلسفہ اور علم النفس کا ماہر تھا اسے جب مقدمہ قرآن مجید دیا گیا تو کٹر مخالف ہونے کے باوجود وہ اس کے مطالعہ سے اس قدر متاثر ہوا کہ بار بار کہتا تھا کہ میں ہر گز مان نہیں سکتا کہ یہ امام جماعت احمدیہ کی تصنیف ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میٹرک پاس بھی نہیں۔بلکہ یہ تصنیف کسی اعلیٰ درجہ کے فلسفی اور ماہر نفسیات کی لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے جس نے یورپ میں تعلیم پائی ہے۔الغرض یہ ہمارے موجودہ امام کی نے نظیر دینی خدمات اور غیر معمولی کارناموں کی ایک مختصر سی جھلک ہے اور اب یہ مظفر و منصور انسان بستر علالت میں پڑا ہوا اپنی وصیت املاء کرا رہا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ موت ہر انسان کے لئے مقدر ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان دنیا میں نہ رہا تو پھر اور کس ماں کا بچہ ہے جو دائمی زندگی کا پروانہ لے کر آ سکتا ہے۔مگر یقیناً ایسے امام کی زندگی کو خطرہ میں دیکھ کر ہر مخلص احمدی کا دل پگھل پگھل کر خدا کے آستانہ پر گرنا چاہئے۔جماعت ابھی تک قومی زندگی کے لحاظ سے ایک محض شیر خوار بچہ ہے جسے ہر قدم پر سہارا دینے اور گویا انگلی پکڑ کر چلانے کی ضرورت ہے۔مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے کہ جماعت کو اس وقت دعاؤں اور صدقات کی طرف غیر معمولی توجہ ہے۔جو ایک طرف جماعت کے اخلاص کی علامت ہے اور دوسری طرف وہ اس بے نظیر محبت پر بھی شاہد ہے جو جماعت کے دل میں اپنے امام کے لئے ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ: جنس بالا کن که ارزانی ہنوز حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ: اے فجر رسل قرب تو معلومم شد دیر آمده زره دور آمده 1