مضامین بشیر (جلد 3) — Page 612
مضامین بشیر جلد سوم 612 پس اے میرے عزیز و اور دوستو اور بزرگو! اس وقت اپنی دعاؤں میں وہ ذوق و شوق پیدا کرو جو ایک بہت دیر کے بعد آنے والے اور بہت دور سے آنے والے خدائی مہمان کے شایانِ شان ہے۔اور اپنے اندر تقویٰ بھی پیدا کرو جو عمل صالح کی جان ہے۔کیونکہ متقی انسان کی دعا ئیں یقینا زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محرره 22 مئی 1959 ء ) روزنامه الفضل ربوه 24 مئی 1959 ء ) خلافت یعنی قدرت ثانیہ کا مبارک نظام ایڈیٹر صاحب الفضل نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ 27 مئی 1959ء کو الفضل کا خلافت نمبر شائع کر رہے ہیں اور انہوں نے مجھے سے خواہش کی ہے کہ میں بھی اس نمبر کے لئے کچھ لکھوں۔سو ہر چند کے اس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی اطال اللہ حیلہ و فیوض و برکاتہ کی بیماری کی وجہ سے طبیعت میں سکون کی کیفیت نہیں ہے اور پھر اس موضوع پر میرے متعدد مضمون مختلف اوقات میں بھی چھپ بھی چکے ہیں۔تاہم میں حصول ثواب کی خاطر ذیل کی چند سطریں سپرد قلم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ احباب جماعت اس مختصر نوٹ سے جو زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک حوالہ پر مشتمل ہے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔جیسا کہ میں اپنے سابقہ مضمونوں میں تشریح کے ساتھ بتا چکا ہوں اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ یہ سنت ہے کہ جس طرح وہ مخلوق کی ہدایت اور اصلاح کے لئے مناسب وقت پر کسی شخص کو نبوت کے مقام پر فائز کر کے اس کے ذریعہ مردہ قوموں میں زندگی کی روح پھونکتا ہے اسی طرح اس کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ نبی کی وفات کے بعد اس کے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے خلافت کا نظام قائم فرماتا ہے جو گویا نبوت کا تتمہ ہوتا ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : مَا مِنْ نُبُوَّةٍ قَطُّ إِلَّا تَبعَتُهَا خِلَافَةٌ ( كنز العمال صفحه 109) یعنی کوئی نبوت ایسی نہیں گزری کہ اس کے بعد خدا نے خلافت کا سلسلہ قائم نہ کیا ہو۔یہ وہی مقدس سلسلہ خلافت ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے رسالہ ” الوصیت میں