مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 610 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 610

مضامین بشیر جلد سوم 610 سب سے پہلا کارنامہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ کا وہ ہے کہ جب خلافت ثانیہ کی ابتداء میں حضور کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف جماعت کو ایک خطرناک ابتلاء سے بچایا جو ایک بھاری اور تباہ کن زلزلہ کا رنگ رکھتا تھا اور جماعت کا بظاہر فعال حصہ جماعت اور مرکز سے کٹ کر جماعت کے بعض مخصوص عقائد کو خیر باد کہہ رہا تھا۔بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے حضور کے ذریعہ خدا نے جماعت کو مضبوطی اور ترقی کے رستہ پر ڈال دیا۔جس کے بعد وہ ہر آن بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی اور اس کی رفتار ترقی بھی تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔حتی کہ اب جماعت کے کثیر التعداد مبلغ آزاد دنیا کے ہر حصہ میں پہنچ کر اسلام کا نام بلند کر رہے ہیں اور دنیا کے دور بین مبضر احمدیت سے مرعوب ہوتے جاتے ہیں اور جماعت کی تعداد میں بھی ایسی ترقی ہو چکی ہے کہ جہاں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ کے آخری جلسہ سالانہ میں زائرین کی تعداد صرف ڈیڑھ ہزار کے قریب تھی وہاں اب یہ تعداد اسی ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔اس کے بعد کشمیر کے اسیروں کی رستگاری کے لئے جو عظیم الشان خدمات حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے سرانجام دیں وہ بھی احمدیت کی تاریخ بلکہ ملک کی تاریخ کا ایک کھلا ہوا ورق ہیں جسے کوئی شریف غیر متعصب انسان بھلا نہیں سکتا۔وہ وقت اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جب شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ صاحب قادیان اس غرض سے آئے تھے کہ تا امام جماعت احمدیہ کی غیر معمولی خدمات کا خود بنفس نفیس شکر یہ ادا کریں۔پھر احرار کی مخالفت کا زمانہ آیا اور احرار نے جماعت احمدیہ کے خلاف وہ آگ بھڑ کائی کہ دنیا نے سمجھا کہ بس اب اس آگ میں یہ چھوٹی سی جماعت بھسم ہو کر رہ جائے گی۔مگر اسی آگ کے شراروں میں خدا نے حضور کو یہ نظارہ دکھایا کہ احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلی جارہی ہے۔اور ایسا ہی ہوا کہ آگ لگانے والے خود اپنے پاؤں کے نیچے کی زمین کے ساتھ پیوست ہو کر رہ گئے۔اس کے بعد ملکی تقسیم کا زلزلہ پیش آیا اور لاکھوں مسلمان اور ہزاروں ہندو سکھ اس زلزلہ کے ملبہ میں دب کر ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔مگر حضرت خلیفتہ المسیح کی معجزانہ قیادت یہاں بھی جماعت کے آڑے آئی اور جماعت کے لاتعداد مردوں اور عورتوں اور بچوں کو اس طرح اٹھا کر پاکستان پہنچا دیا جس طرح ایک شہد کی مکھیوں کا چھتہ بعض اوقات کسی ہوا کے جھونکے سے متاثر ایک جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ جاتا ہے۔اور پھر یہی نہیں بلکہ حضور کی حکیمانہ سعی سے جماعت کو ربوہ جیسا ثانوی مرکز بھی مل گیا جو حقیقتا قرآنی وعدہ من يُّهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً (النساء: 101) کا بہترین ظہر ہے۔جس میں ہمیشہ یورپ اور امریکہ اور افریقہ کے نومسلمین کی ایک پارٹی دین سیکھنے کے لئے ڈیرہ