مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 596 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 596

مضامین بشیر جلد سوم 596 اس آیت میں عربی محاورہ کے مطابق ”صبر" کے لفظ میں ثابت قدمی اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے علاوہ روزہ بھی مراد ہے۔کیونکہ روزہ میں بھی انسان کو تکلیف کے مقابلہ پر اپنے نفس کو روک کر رکھنا پڑتا ہے۔اور یقینا اچھا مجاہد وہی ہے جو اس زمانہ میں قلم اور زبان اور مال کے جہاد کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کے ساتھ بھی جہاد جاری رکھتا ہے۔اور رمضان کا مہینہ تو خصوصیت سے نفس کے جہاد کا مہینہ ہے۔پس اب جبکہ رمضان کا آخری عشرہ جو رمضان کا مبارک ترین حصہ ہے شروع ہونے والا ہے۔میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جہاں تک ان میں طاقت ہو اور ان کے حالات اجازت دیں وہ مساجد کی زیادہ سے زیادہ رونق بنے کی کوشش کریں۔اس کے لئے مساجد میں ہر وقت بیٹھنے کی ضرورت نہیں (سوائے اس کے کوئی دوست اعتکاف بیٹھنے کی سعادت حاصل کریں ) بلکہ جہاں تک ممکن ہو اور کوئی جائز عذر بیماری یا سفر وغیرہ کا نہ ہومساجد میں جا کر نماز باجماعت ادا کرنے اور مسنون نفل نماز میں پڑھنے کی پوری پوری کوشش ہونی چاہئے۔اور اس عبادت کو ایسے ذوق و شوق سے ادا کیا جائے کہ بقول سرور کائنات نماز پڑھنے والے کا دل مسجد میں لڑکا ہوا نظر آئے۔یعنی جب وہ ایک نماز سے فارغ ہو تو اس کے دل و دماغ کی کیفیت یہ ہو کہ گویا اس کے کان دوسری اذان کی طرف لگے ہوئے ہیں۔بالفاظ دیگر جب وہ مسجد سے باہر آئے تو ایسا ہو کہ گویا وہ اپنا دل مسجد میں ہی چھوڑ آیا ہے۔یہ وہی حقیقت ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام دست با کارو دل بایار“ کے لطیف الفاظ میں بیان فرمایا کرتے تھے۔دوستوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ رمضان کا آخری عشرہ روحانیت کے زبر دست انتشار کی وجہ سے دعاؤں کی قبولیت کا خاص زمانہ ہے اور اسی عشرہ میں وہ رات بھی آتی ہے جسے قرآن مجید میں لیلۃ القدر کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔جس میں ایک طرف خدا تعالیٰ کے افضال ورحمت کی وسعت اور دوسری طرف مخلص بندوں کی دعاؤں کی قدرو قیمت بے انتہا بڑھ جاتی ہے۔وَفِي ذلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (المطففين: 27) دعاؤں کے فلسفہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں کہ : دعا میں اللہ تعالیٰ نے بڑی قوتیں رکھی ہیں۔خدا نے مجھے بار بار بذریعہ الہام یہی فرمایا ہے کہ جو کچھ ہوگا دعا ہی کے ذریعہ ہوگا۔ہمارا ہتھیار تو دعا ہی ہے اس کے سوا کوئی ہتھیار میرے پاس نہیں۔جو کچھ ہم پوشیدہ ما نگتے ہیں خدا اس کو ظاہر کر کے دکھا دیتا ہے۔مگر اکثر لوگ دعا کی اصل فلاسفی سے ناواقف ہیں اور نہیں جانتے کہ دعا کے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچنے کے واسطے کس قدر توجہ اور محنت درکار ہے۔دراصل دعا کرنا ایک قسم کا موت