مضامین بشیر (جلد 3) — Page 595
مضامین بشیر جلد سوم 595 پہلو اس کے قاعدا نہ پہلو سے بہتر بلکہ بدر جہا بہتر ہے۔کیونکہ جہاں ایک قاعد انسان یعنی محض گھر یا مسجد میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والا شخص صرف اپنی ذات کے لئے زندگی گزارتا ہے وہاں ایک مجاہد انسان خدا کا سپاہی ہوتا ہے جو دین کی ترقی کے لئے شب و روز مصروف رہتا اور اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔پس فرق ظاہر ہے۔مگر جہاں میں اس بات کی اپیل کر رہا ہوں کہ مساجد کی رونق بنو “ وہاں میری مراد ہرگز یہ نہیں کہ جہاد کی صف کو چھوڑ کر گھر یا مسجد میں دھونی رمالو۔بلکہ مراد یہ ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح تبلیغ کے جہاد کے علاوہ نفس کے جہاد میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ بعض اوقات آپ نماز میں اتنی دیر کھڑے رہتے تھے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے اور اس درد و سوز کے ساتھ دعائیں کرتے تھے کہ گویا کوئی ہنڈیا اہل رہی ہے۔مگر باوجود اس کے دشمن کے مقابل پر بھی آپ کا قدم ہمیشہ صف اول میں ہوتا تھا۔اور جہاں وقتی ریلے کے سامنے بڑے بڑے جری صحابہ کے پاؤں بھی اکھڑ نے لگتے تھے۔وہاں آپ ایک شیر کی طرح للکارتے ہوئے آگے بڑھتے تھے کہ: ا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبُ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی حد درجہ جمالی شان کے باوجود جہاد کی صف میں کھڑے ہو کر اسلام کے دشمنوں کو کس جلال سے پکارتے ہیں کہ : جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زارو نزار وو اور جب ریاضت اور نفس کے مجاہدہ کی طرف توجہ فرماتے ہیں تو مسلسل چھ ماہ تک روزے رکھتے چلے جاتے ہیں۔پس جب میں کہتا ہوں کہ مساجد کی رونق بنو ، تو میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جہاد بالقلم یا جہاد باللسان کو ترک کر کے محض نماز روزے میں لگ جاؤ بلکہ مطلب یہ ہے جہاد کے واسطے اپنے نفسوں میں سٹیم بھرنے اور تیاری کرنے اور ہر آن تازہ دم رہنے کے لئے نماز روزے کے ذریعہ طاقت حاصل کرو۔قرآن مجید فرماتا ہے: يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة: 154) یعنی اے مومنو! تم جہاد کے واسطے نماز اور روزے کے ذریعہ طاقت حاصل کیا کرو۔