مضامین بشیر (جلد 3) — Page 597
مضامین بشیر جلد سوم اختیار کرنا ہے۔کاش ہمیں یہ موت میسر آجائے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ 597 محررہ 25 مارچ 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 31 مارچ 1959ء) جماعتی اتحاد کی قدرو قیمت کو پہچانو بِسْمِ اللہ کی جہری یا خفی قرآة ایسے مسائل میں جماعت احمدیہ کا حکیمانہ مسلک غالباً ڈیڑھ یا دو ماہ کا عرصہ ہوا ہو گا کہ مجھ سے محترم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے ( جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی عدم موجودگی میں مسجد مبارک ربوہ میں امام الصلوۃ ہوا کرتے ہیں ) کہا کہ بعض روایتوں میں آتا ہے کہ جہری قرآۃ والی نمازوں میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کرتے ہوئے بسم الله رَّحْمنِ الرَّحِيمَ کو بھی جہری رنگ میں پڑھنا چاہئے۔اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کیا طریق تھا ؟ میں نے کہا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی مرحوم جو اپنی وفات ( یعنی 1905 ء ) تک قادیان کی مسجد مبارک میں امام الصلوۃ ہوا کرتے تھے وہ تو ہر جہری قراۃ والی نماز ( یعنی فجر اور مغرب اور عشاء) میں لازماً بسم اللہ بھی جہری پڑھا کرتے تھے۔مگران کی وفات کے بعد جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ امام الصلوۃ بنے ( در اصل حضرت مسیح موعود نے شروع میں حضرت خلیفہ اول کو ہی امام الصلوۃ مقرر فرمایا تھا مگر انہوں نے خود حضرت مسیح موعود سے عرض کر کے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو امام مقرر کروا دیا تھا تو آپ ہمیشہ بسم اللہ کو خفی رنگ میں پڑھتے تھے اور جہری قرأة صرف الْحَمْدُ لِلهِ سے شروع فرماتے تھے۔اور یہ طریق ابتداء سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بھی رہا ہے۔آپ بھی جہری قرآة الحَمدُ لِلهِ سے شروع فرماتے ہیں۔شمس صاحب نے کہا اگر میں بسم اللہ جہری طور پر پڑھوں تو کیا اس میں کوئی حرج تو نہیں؟ میں نے کہا فتویٰ دینا تو میرا