مضامین بشیر (جلد 3) — Page 585
مضامین بشیر جلد سوم 585 ہے۔اور اشترا کی ملکوں کو چھوڑ کر جنہوں نے فی الحال اپنی لادینیت کی وجہ سے ہمارے مبلغوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے باقی اکثر آزاد ممالک میں جماعت احمدیہ کے مبلغ دن رات اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔اور مسیحی مشنری ہماری جماعت کی کوششوں کی وجہ سے مرعوب اور خائف ہو رہے ہیں۔اور خدا کے فضل سے وہ وقت دور نہیں کہ صداقت کا آفتاب مغرب سے طلوع کرے گا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام نہایت شاندار نگ میں پورا ہوگا کہ: ” بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد ( تذکرہ) مگر میں اپنے مضمون کے مرکزی نقطہ سے ہٹ گیا۔میں یہ بیان کرنا چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ رتبہ کہ آپ ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب اور اسلام کے آخری دور کے لیڈر یعنی مسیح ابن مریم قرار پائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے پناہ محبت اور لاثانی عشق کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔چنانچہ جو شعر اس مضمون کے عنوان کی زینت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک فارسی نظم سے لیا گیا ہے۔جس کے چند چیدہ اشعار ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں اور کس طرح والہانہ جذ بہ سے فرماتے ہیں کہ : اے محبت عجب آثار نمایاں کردی زخم و مرہم برہ یار تو یکساں کردی ذره را تو بیک جلوه کنی چون خورشید اے بسا خاک کہ تو چوں میہ تاباں کردی جان خود کس ندهد بهر کس از صدق و صفا راست این است که این جنس تو ارزاں کردی تانه دیوانه شدم ہوش نیامد بسرم اے جنوں گرد تو گردم که چه احساس کردی آں مسیحا که بر افلاک مقامش گویند لطف کردی که ازیں خاک مرا آں کردی در شین فارسی متر جم صفحه 379-378) یعنی اے محبت تیرے آثار ونشانات کتنے عجیب و غریب ہیں تو نے محبوب کے رستہ میں زخم و مرہم (یعنی بیماری اور علاج ) کو ایک جیسا بنا رکھا ہے۔تو ایک ذرہ بے مقدار کو اپنے ایک جلوہ سے سورج بنادیتی ہے اور