مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 586 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 586

مضامین بشیر جلد سوم 586 بسا اوقات تیری وجہ سے خاک کی ایک چنگی میری طرح چمکتا ہوا چاند بن جاتی ہے۔کوئی شخص کسی دوسرے کی خاطر اخلاص و وفا کے ساتھ اپنی جان نہیں دیتا مگر حق یہ ہے کہ تو ہی وہ چیز ہے جس نے اس نایاب جنس کو ارزاں کر دیا ہے۔میں تو جب تک خدا اور اس کے رسول کے عشق میں دیوانہ نہیں ہو گیا میرے سر میں ہوش نہیں آیا۔پس اپنے جنون عشق میں تیرے قربان جاؤں کہ تو نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔وہ مسیح کہ جسے لوگ آسمان پر بیٹھا ہوا خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہی آسمان سے اترے گا تو نے اے عشق و محبت اُسے اپنی کرشمہ سازی سے زمین میں ہی پیدا کر کے دکھا دیا ہے۔ایک دوسرے مقام پر اپنے عشق و محبت کا اس طرح اظہار فرماتے ہیں: یا نبی اللہ ثار روئے محبوب توام وقف راہت کرده ام این سر که بر دوش ست بار تا بمن نور رسول پاک را بنموده اند عشق او در دل ہے جوشد چو آب از آبشار آتش عشق از دم من ہچو برقے مے جہد یک طرف اے ہمدمان خام از گرد و جوار یا رسول اللہ برویت عهد دارم استوار عشق تو دارم ازاں روزے کہ بودم شیرخوار یاد کن وقتے که در کشفم نمودی شکل خویش یاد کن ہم وقت دیگر کآمدی مشتاق وار یاد کن آں لطف و رحمتها که با من داشتی وآں بشارت ہا که میدادی مرا از کردگار یاد کن وقتے چو بنمودی بیداری مرا به آں جمالے، آں رخ، آں صورتِ رشک بہار در مشین فارسی مترجم از ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب صفحہ 222-223، 224-225) یعنی اے نبی اللہ ! تیرے پیارے چہرے پر میں قربان جاؤں۔میں نے تو تیرے رستہ میں اپنا سر وقف کر