مضامین بشیر (جلد 3) — Page 526
مضامین بشیر جلد سوم 526 ہیں۔مگر میں یقین رکھتا ہوں کہ بحیثیت مجموعی سیرۃ المہدی نے تاریخی میدان میں سلسلہ احمدیہ کی عمدہ خدمت سرانجام دی ہے جس کی قدر و منزلت انشاء اللہ آگے چل کر اور بھی نمایاں ہو کر ظاہر ہوگی۔بہر حال جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں اس کتاب کے تین حصے شائع ہو چکے ہیں اور ان کے علاوہ میرے پاس دومزید حصوں کا مواد موجود تھا اور ان بقیہ حصوں کے مسودوں میں بھی خدا کے فضل سے کئی قیمتی روایات درج ہیں جن میں سے زیادہ نمایاں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی مرحوم رضی اللہ عنہ وغیرہ کی روایات ہیں۔سو چونکہ اب میری صحت خراب رہتی ہے اور زندگی کا اعتبار نہیں اس لئے میں نے ان دونوں حصوں کے مسودے میر مسعود احمد فاضل پسر حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے سپر د کر دیئے ہیں اور انہیں سمجھا دیا ہے کہ اگر اور جب انہیں ان حصوں کو مدون کر کے شائع کرنے کا موقع ملے تو نہ صرف روایات کو عقل و نقل کے طریق پر اچھی طرح چیک کر کے درج کریں بلکہ جہاں جہاں تشریح کی ضرورت ہو وہاں تشریحی نوٹ بھی ساتھ دے دیں۔اسی طرح اگر سابقہ تین حصوں میں کوئی غلطی رہ گئی ہو یا کوئی روایت قابل تشریح نظر آئے تو سابقہ روایت کا حوالہ دے کر اس کی بھی تشریح کر دیں اور میں نے انہیں تاکید کر دی ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے مخالفوں کی گندی ذہنیت کے پیش نظر اصول یہ مد نظر رکھیں کہ کسی کمزور یا لا تعلق روایت کو تشریح کے ساتھ درج کرنے کی بجائے بہتر یہ ہے کہ اسے بالکل ہی ترک کر دیا جائے۔تا کہ کمزور حدیثوں کی طرح یہ روایتیں بھی فائدہ کی بجائے نقصان کا موجب نہ بن جائیں۔میں نے یہ تلخ سبق اپنے زمانہ کے مخالفین کی ناپاک اور پست ذہنیت سے سیکھا ہے۔ہاں یاد آیا کہ حصہ چہارم اور حصہ پنجم کے مسودے میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اس وصیت کا اصل کا غذ بھی شامل ہے جو حضور نے اپنی مرض الموت میں آئندہ خلیفہ کے انتخاب کے بارے میں تحریر فرمائی تھی۔اور پھر اسے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے مرحوم سے پڑھوا کر حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ کے سپر د کر دیا تھا اور اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم کے دستخط بھی ثبت ہیں۔اسی طرح بعض روایات حضرت اماں جان نوراللہ مرقد با اور بعض حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی بھی اس مسودہ میں درج ہیں۔اسی طرح اس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی بعض دو تخطی تحریر یں بھی شامل ہیں اور اس قرعہ کے کاغذات بھی اسی مسل میں ہیں جو حضرت اماں