مضامین بشیر (جلد 3) — Page 525
مضامین بشیر جلد سوم 525 مبارک یادگاروں کی بناء پر قائم ہیں۔اس لئے میں جماعت کے مخلص دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لے کر ان برکات سے حصہ پائیں جو خدا کا گھر بنانے والوں کے لئے ازل سے مقدر ہیں۔اور یہ گھر تو عام گھر نہیں ہے بلکہ خدا کا ایک یادگاری گھر ہوگا جو ہمیشہ ربوہ کی سب سے پہلی نماز کی یادگار رہے گا۔عزیز ڈاکٹر مرزا منور احمد جو اس مسجد کی تعمیر کے انچارج ہیں ان کا خیال ہے کہ اس مسجد کو بہت خوبصورت اور دلکش رنگ میں بنایا جائے اور اس کا بیرونی رنگ سفید سیمنٹ کا ہو جو تمام رنگوں میں بے عیب رنگ سمجھا جاتا ہے۔۔(محرره 25 مئی 1958 ء) روزنامه الفضل ربوہ 30 مئی 1958 ء ) سیرۃ المہدی حصہ چہارم و پنجم کا مسودہ عزیز مکرم میر مسعود احمد صاحب فاضل کے سپرد کر دیا گیا میری کتاب سیرۃ المہدی حصہ اول و دوم وسوم ایک عرصہ سے چھپ کر ا حباب جماعت کے سامنے آچکی ہے۔یہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت و سوانح کے متعلق خدا کے فضل سے کثیر التعداد عمدہ روایات اور مفید مواد پر مشتمل ہے۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اس کے مواد کا معتد بہ حصہ ایسا ہے جو صرف اسی کے ذریعہ محفوظ ہوا ہے ورنہ وہ غالباً ضائع ہو جاتا۔چنانچہ حضرت اماں جان نوراللہ مرقد ہا اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت منشی محمد عبد اللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ اور حضرت میر عنایت علی صاحب مرحوم رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے اصحاب کی اکثر روایات ایسی ہیں جو سیرۃ المہدی کے سوا کسی اور اشاعت میں شائع نہیں ہوئیں۔اور گوبعض روایات پر گندی فطرت کے مخالفین نے اعتراض کیا ہے اور انہیں غلط رنگ دے کر سادہ طبع غیر احمدیوں کو دھوکہ دینا چاہا ہے اور بالکل ممکن ہے کہ بعض روایات میں راویوں کے حافظہ یا سمجھ کی وجہ سے کوئی غلطی بھی ہو گئی ہو۔کیونکہ حدیث کی طرح ہر زبانی روایت میں یہ دونوں باتیں ممکن