مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 527 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 527

مضامین بشیر جلد سوم 527 جان رضی اللہ عنہا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں ہم تین بھائیوں میں تقسیم ہوئی تھیں۔محرره 15 جون 1958ء)۔۔۔۔۔۔عید الاضحیہ کی قربانیاں (روز نامہ الفضل ربوہ 18 جون 1958ء) احباب اصل روح کی طرف توجہ دیں عیدالاضحیہ بالکل قریب آگئی ہے۔اس عید پر اکثر مسلمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور ارشاد کے مطابق حسب توفیق قربانیاں دیتے ہیں۔کوئی بکرے کی قربانی دیتا ہے، کوئی چھترے کی کوئی دنے کی اور کوئی دوسروں کے اشتراک کے ساتھ گائے یا اونٹ کی قربانی دیتا ہے اور یہ سب قربانیاں ایک بڑی نیکی کا فعل ہیں۔جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور پھر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سنت کو زندہ رکھنا مقصود ہے۔مگر ہمارے بھائیوں کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ یہ قربانیاں صرف ایک ظاہری علامت کے طور پر ہیں اور اس عید کی اصل روح، جان اور مال اور دل کی کدورتوں کی قربانی سے تعلق رکھتی ہے۔پس میں اس مبارک دن کے موقع پر دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے نفسوں کو بیدار کر کے مندرجہ ذیل تین قربانیوں کی طرف خاص توجہ دیں۔(اول ) وہ جان کی قربانی کریں جو عید الاضحیہ کی قربانی کا مرکزی نقطہ ہے۔جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی سے ہوا جو انہوں نے اپنے جگر گوشہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کی صورت میں پیش کی اور جو بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ذبح عظیم بن کر ظاہر ہوئی جس نے دنیا کی کایا پلٹ دی۔پس ہمارے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ عیدالاضحیہ کی ظاہری اور مادی قربانیوں کے وقت اس کی اندرونی روح کی طرف خیال رکھتے ہوئے اپنے نفسوں کی قربانی پیش کریں اور یہ دو طرح سے ہوسکتی ہے: ) وہ اپنے آپ کو خدمت دین میں لگائیں اور اپنے وقت کا ایک معقول حصہ دین کی خدمت میں خرچ کریں۔خواہ وہ اصلاح وارشاد کی صورت میں ہو یا جماعتی تربیت کی صورت میں یا جماعت کے دیگر