مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 524 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 524

مضامین بشیر جلد سوم 524 پنجابی زبان میں مجھے خود سنائی تھی اور مجھے اس کی یہ بحث سن کر بڑا لطف آیا کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ان پڑھ اور بظاہر جاہل احمدیوں کے ذریعہ غیر احمدی علماء تک کو لاجواب کر دیتا ہے۔دراصل میاں بگے کا یہ جواب اس قرآنی آیت کی عملی تفسیر تھا کہ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفاتاً أَحْيَاءً وَأَمْوَاتاً- (المرسلات: 26-27) یعنی کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ وہ زندوں اور مردوں دونوں کو اپنی طرف سمیٹنے والی ہے؟ بہر حال یہ بات احمدیت کی صداقت کی دلیل ہے کہ اس نے ہر چھوٹے بڑے احمدی کے دماغ میں وہ روشنی پیدا کر دی ہے جس سے وہ علی قدر مراتب اپنے اپنے رنگ میں ہر بڑے سے بڑے مولوی کا منہ بند کر سکتا ہے۔اور خدا کے فضل سے احمد یہ جماعت میں ایسی سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (الجمعة: 5) ( محرره 24 مئی 1958ء) روزنامه الفضل ربوہ 30 مئی 1958 ء ) ربوہ کی یادگاری مسجد جیسا کہ اکثر احباب کومعلوم ہوگا جس د حضرت خلیفہ اسی الثانی ایہ اللہ بصرہ العزیز مرکز بہو کے افتتاح کے لئے 20 ستمبر 1948 ء کو ربوہ میں تشریف لائے تھے اور یہاں بہت سے مخلص احباب کی موجودگی میں بڑی دعاؤں کے ساتھ افتتاحی تقریب فرمائی تھی اور برکت کے خیال سے پانچ جانور بھی صدقہ کے طور پر ذبح کئے گئے تھے۔اس دن حضرت خلیفہ اُسیح نے ربوہ میں جو پہلی نماز ادا کی تھی اس کے نشان ایک قومی یادگار کے طور پر اسی وقت محفوظ کر لئے گئے تھے۔یہ جگہ نقشہ آبادی ربوہ کے لحاظ سے فضل عمر ہسپتال ربوہ کے احاطہ میں آئی ہے اور اب اس جگہ ایک چھوٹی سی یادگاری مسجد تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔چنانچہ جب 21 مارچ 1958ء کو حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فضل عمر ہسپتال کی شاندار عمارت کا افتتاح فرمایا تو اس دن اس مسجد کی بنیادی اینٹ پر بھی دعا فرمائی۔اور اب اس جگہ خدا کے فضل سے مسجد کی تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے جس پر پانچ ہزار روپے ( -/5000 ) کے خرچ کا اندازہ ہے۔چونکہ یہ ایک اہم یادگاری مسجد ہوگی اور قو میں اپنی یادگاروں کے ذریعہ ہی زندہ رہا کرتی ہیں۔چنانچہ اسلام میں حج کی تمام رسوم اسی قسم کی