مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 523 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 523

مضامین بشیر جلد سوم مجھ پر سچا ایمان لائیں۔523 خدا کرے کہ ہم اس معیار پر پورے اتریں اور خدا کرے کہ ہمارے دلوں میں دعا کے وقت وہ کیفیت پیدا ہو جو خدا کی رحمت کو کھینچا کرتی ہے۔اور رمضان کا اختتام ہمیں ایک بدلی ہوئی قوم پائے جو خدا کی کچی پرستار اور اس کے رسول کی سچی عاشق اور اس کے مسیح کی کچی خادم ہو۔امِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَآخِرُ دَعْوَنَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ( محررہ 2 اپریل 1958 ء) (روز نامہ الفضل ربوہ 9 اپریل 1958ء) وفات مسیح کے متعلق ایک دلچسپ مناظرہ کس طرح ایک پڑی نے ایک دیو کو پچھاڑ دیا میں آج ایک ان پڑھ احمدی کی تبلیغ کا لطیفہ سناتا ہوں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حق کی تبلیغ میں ان پڑھ بلکہ جاہل آدمیوں کی بھی نصرت فرماتا ہے۔دراصل ایک روحانی مصلح کی بعثت آسمانی بارش کا رنگ رکھتی ہے جس سے زمین کی ہر روئیدگی اپنے اپنے حالات اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق فائدہ اٹھاتی ہے۔یہی منظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت میں نظر آتا ہے۔عرصہ کی بات ہے قادیان میں ایک شخص میاں دین محمد ہوتا تھا جسے اس کے غیر معمولی سفید رنگ کی وجہ سے لوگ میاں بگا کہتے تھے۔یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک قدیم خادم میاں جان محمد کشمیری کا لڑکا تھا اور بالکل جاہل اور ان پڑھ تھا۔بلکہ اسے ایک طرح نیم مخبوط الحواس ہی کہنا چاہئے۔میں نے ایک دفعہ اس سے پوچھا کہ میاں بگے کیا تم نے بھی کبھی کسی کو تبلیغ کی ہے؟ کہنے لگا ہاں ایک دفعہ ایک غیر احمدی مولوی کے ساتھ میری بحث ہوئی تھی۔میں نے اسے کہا تم لوگ حضرت عیسی کو آسمان پر زندہ سمجھتے ہومگر وہ تو فوت ہو چکے ہیں۔مولوی کہنے لگا ہر گز نہیں بلکہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ موجود ہیں۔میاں بگا نے کہا کہ میں نے اس مولوی سے پوچھا کہ حضرت عیسی کس طرح آسمان پر چلے گئے ؟ مولوی نے ایک پتھر اٹھایا اور آسمان کی طرف پھینک کر کہا کہ حضرت عیسی اس طرح آسمان پر چلے گئے۔مگر یہ پتھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر آ گرا۔جس پر (میاں بگا سناتا تھا کہ میں نے فوراً اس مولوی سے کہا کہ ”او پیا اے یعنی تمہارا پتھر وہ پڑا ہے۔اس پر یہ مولوی مبہوت ہو کر خاموش ہو گیا۔یہ ساری گفتگومیاں بگا نے اپنی سادہ