مضامین بشیر (جلد 3) — Page 522
مضامین بشیر جلد سوم 522 مطابق ایک وقتی ہدایت فرما دیتے تھے۔لیکن آپ کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہوتا تھا کہ ہر شخص ہر حال میں صرف اسی ہدایت کا پابند ر ہے اور اس سے آگے قدم نہ اٹھائے۔خوب سوچو کہ دینے والی خدا جیسی دیالو ہستی جس کے انعام واکرام اور فضل و رحمت اور جود وسخا کی کوئی حد نہیں اور گھڑی لیلۃ القد رجیسی عظیم الشان ہے۔جسے خدا نے تراسی سال ( یعنی عام حالات میں لمبی سے لمبی انسانی عمر ) سے بھی بہتر اور مجسم سلامتی قرار دیا ہے اور پھر دعا صرف یہ کہ میرے ذاتی گناہ معاف ہو جائیں اور بس ! یہ نظریہ نہ تو خدا کے شایانِ شان ہے اور نہ رسول کے مقام تلقین و تعلیم سے کوئی مناسبت رکھتا ہے اور نہ ہی لیلتہ القدر جیسی مبارک گھڑی کے ساتھ جس کا کوئی خاص جوڑ ہے۔پس ہمارے جن خوش قسمت دوستوں کو لیلۃ القدر میسر آئے انہیں چاہئے کہ بے شک یہ دعا بھی مانگیں جس کا اوپر کی حدیث میں ذکر ہے کیونکہ یہ ہمارے آقا کا مقدس کلام ہے اور برکتوں سے معمور۔لیکن اپنی دعاؤں کو اس دعا تک ہرگز محدود نہ رکھیں بلکہ ہر قسم کی جماعتی اور قومی اور خاندانی اور انفرادی اور پھر منفی اور مثبت دعاؤں سے اپنے دامن کو اتنا بھر لیں کہ بے شک ان کا دامن پھٹنے کے قریب پہنچ جائے مگر دعا کا دامن تنگ نہ ہونے پائے۔یہ درست ہے کہ بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ ایک ہی وقت میں بہت سی دعائیں کریں تو انتشار کی صورت پیدا ہو کر توجہ کا مرکز اکھڑ جاتا ہے۔لیکن کم از کم یہ تو ہو کہ جماعتی اور قومی دعاؤں کو نہ بھولا جائے۔یعنی اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے خاص دعائیں کی جائیں۔رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاک مقاصد کی کامیابی کے لئے دعا کی جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی صحت اور درازی عمر کے واسطے دردمندانہ دعا مانگی جائے۔صحابہ کرام کی طول عمری اور ان کے پاک نمونہ سے متمتع ہونے کے لئے خدا کے سامنے دامن پھیلایا جائے۔جماعت کے مبلغین اور مرکزی کارکنوں کے لئے دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رضا کے مطابق مقبول خدمت کی توفیق دے اور انہیں جماعت کے لئے فتنہ کا باعث نہ بنائے۔قادیان کو اپنی دعاؤں میں یا درکھا جائے اور پھر اپنے عزیزوں اور دوستوں اور ہمسائیوں کے لئے بھی دینی اور دنیوی دعا مانگی جائے۔جب خدائی رحمت کی کوئی حد بست نہیں تو ہم اپنے دامن کو کیوں تنگ کریں؟ مگر بہر حال اس الہی ارشاد کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے جو دعا کی قبولیت کے لئے گویا ایک بنیادی پتھر ہے کہ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَالْيُؤْمِنُوا بِي (البقره: 187) یعنی میں دعا کرنے والے کی دعا کو ضرور سنتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ میرے بندے بھی میرا حکم مانیں اور