مضامین بشیر (جلد 3) — Page 429
مضامین بشیر جلد سوم 429 آپ غالباً دین میں بھی منتر جنتر ڈھونڈتے ہیں کہ صرف پھونک مارنے سے کوئی کام ہو جائے مگر مجھے اسلام میں کسی منتر جنتر کا نسخہ یاد نہیں۔اسلام تو مسلسل مجاہدہ کا نام ہے جو صرف موت پر ختم ہونا چاہئے۔پاک نیت ہو، دل میں محبت اور کچی عقیدت ہو اور صحیح رنگ کی مسلسل کوشش کی جائے تو مومن کی جدو جہد کبھی ضائع نہیں جاسکتی۔مجھے افسوس ہے کہ آپ کا خط مایوسی کا رنگ لئے ہوئے ہے۔حالانکہ قرآن مجید فرماتا ہے: إِنَّهُ لَا يَايْمَسَ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف:88) میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر آپ کی ساری عمر نفس کے ساتھ لڑتے گزر جائے اور پھر بھی نفس مغلوب نہ ہو لیکن آپ نیک نیتی کے ساتھ نفس کے مقابلہ میں برابر لگے رہیں اور ہتھیار نہ ڈالیں تو پھر بھی آپ یقیناً نجات پاگئے۔کیونکہ آپ نے شیطان کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دی۔بلکہ یہ تو ایک رنگ میں گویا شہادت کی موت ہے اور گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔آپ کے سوالوں کا یہ ایک بہت مختصر سا اصولی جواب ہے۔آپ غور کریں گے تو انشاء اللہ یہ جواب آپ کی تسلی کا موجب ہوگا۔اللہ تعالیٰ آپ کے اور ہم سب کے ساتھ ہو اور دین و دنیا میں حافظ و ناصر رہے۔آمین ( محررہ 2 اپریل 1957 ء )۔۔۔۔۔۔۔(روز نامہ الفضل ربوہ 5 اپریل 1957ء) رمضان المبارک کے دس خاص مسائل (1) رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں خدائے قدوس کی آخری شریعت کا آغاز ہوا اور کلام الہی اپنے کمال کو پہنچ گیا۔اس مہینہ کو روزہ کی خاص عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء ہوں۔اس مہینہ میں ہر اس عاقل، بالغ ، مردوزن پر روزہ واجب ہے جو بیماری یا سفر کی حالت میں نہ ہو۔مگر ڈیوٹی کے لحاظ سے دائمی سفر پر رہنے والوں کو روزہ رکھنا چاہئے۔کیونکہ ان کا سفر ایک گونہ قیام کا رنگ رکھتا ہے۔(2) بیمار یا مسافر کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ بیماری یا سفر کی حالت گزرنے کے بعد چھوڑے ہوئے