مضامین بشیر (جلد 3) — Page 430
مضامین بشیر جلد سوم 430 روزے رکھ کر اپنے روزوں کی گنتی پوری کرے۔تا کہ اس کی عبادت کے ایام میں فرق نہ آئے اور ثواب میں کمی واقع نہ ہو۔اس غرض کے لئے حائضہ عورت بھی بیمار کے حکم میں ہے۔مگر بیماری اور سفر میں روزہ ملتوی کرنے کے باوجود رمضان کی دوسری برکات سے حتی الوسع متمتع ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔(3) جو شخص بڑھاپے یا دائم المرض ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنے سے معذور ہو اور بعد میں گنتی پوری کرنے کی امید بھی نہ رکھتا ہو ( بہانہ کے طور پر نہیں بلکہ حقیقتا) اس کے لئے یہ حکم ہے کہ روزہ کے بدل کے طور پر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے مہینہ بھر کے کھانے کے اندازہ سے فدیہ ادا کرے۔یہ فدیہ کسی مقامی غریب اور مسکین کو نقدی یا طعام ہر دو صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے اور اس غرض کے ماتحت مرکز میں بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت بھی اسی حکم کے ماتحت آتی ہے یعنی وہ روزہ رکھنے کی بجائے فدیہ ادا کر سکتی ہے۔(4) روزہ طلوع فجر یعنی پو پھوٹنے سے لے کر غروب آفتاب تک رکھا جاتا ہے اور اس میں کھانے پینے یا بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے سے پر ہیز کرنا لازم ہے۔مگر بھول چوک کر کوئی چیز کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔سحری کھانے میں دیر کرنا اور افطاری میں جلدی کرنا سنت نبوی ہے تا خدا تعالیٰ کے حکم کے ساتھ اپنی خواہش کی آمیزش نہ ہونے پائے۔(5) روزہ رکھنے والے کے لئے لازم ہے کہ اپنا وقت خصوصیت سے نیکی اور تقوی طہارت اور صداقت قول اور صداقت عمل میں گزارے۔اور ہر قسم کی بدی اور بیہودگی سے کلی اجتناب کرے مگر اس نیست سے نہیں کہ رمضان کی قید کے ایام کے بعد پھر ستی اور بدی کی مادر پدر آزادی کی طرف لوٹ جائے گا۔بلکہ اس نیت سے کہ وہ اس ٹرینگ کے نتیجہ میں ہمیشہ نیک اور متقی رہنے کی کوشش کرے گا اور خشیت اللہ کو اپنا شعار بنائے گا۔(6) روزوں کے ایام میں نمازوں کی پابندی اور تلاوت قرآن مجید اور دعاؤں اور ذکر الہی اور درود شریف میں شغف خاص طور پر ضروری ہے۔اور روزوں کی راتوں میں تہجد کی نماز کی بڑی تاکید آئی ہے۔تہجد کی نماز مومنوں کو ان کے مخصوص انفرادی مقام محمود تک پہنچانے اور نفس کی خواہشات کو کچلنے اور دعاؤں کی قبولیت کا رستہ کھولنے اور انسان کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بے حد موثر ہے۔( یہ سب قرآنی اشارات ہیں ) دن کے اوقات میں فطحی یعنی اشراق کی نماز بھی بڑے ثواب کا موجب ہے۔تہجد کا بہترین