مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 428 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 428

مضامین بشیر جلد سوم 428 حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہے۔اگر وہ پوری محنت اور پوری توجہ اور پوری دیانت داری کے ساتھ کوشش کرے گا تو قرآن نے وعدہ فرمایا ہے کہ: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهدِيَنَّهُمُ سُبُلَنَا(العنكبوت:70) یعنی جو لوگ ہمارے راستہ میں مجاہدہ کرتے ہیں انہیں ہم اپنے رستوں کی طرف راہنمائی کا سامان ضرور مہیا کر دیتے ہیں۔باقی رہا یہ کہ کسی شخص کو کوئی حقیقی معذوری پیش آجائے اور وہ اپنی کسی غفلت کی وجہ سے نہیں بلکہ حقیقی مجبوری کی صورت ناکارہ ہو جائے تو ایسے شخص کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔اور اس کے لئے "لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها“ کا اصولی ارشاد موجود ہے۔اسی لئے قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ : الْوَزْنُ يَومَئِذٍ الْحَقَّ یعنی قیامت کے دن خدا کانتر از و کامل طور پر حق وانصاف کا ترازو ہوگا۔جس میں سارے پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر اور سارے موجبات رعایت کا موازنہ کر کے فیصلہ کیا جائے گا اور کسی شخص سے کسی رنگ میں نا انصافی نہیں ہوگی۔(4) چوتھا سوال آپ کا یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شخص رمضان میں روزے بھی رکھتا ہے۔قرآن مجید کا دور بھی کرتا ہے۔تہجد بھی پڑھتا ہے، کم بولتا ہے کم سوتا ہے، کم کھاتا ہے مگر رمضان کے اختتام پر سوائے بدنی کمزوری کے اسے بظاہر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔آپ کا یہ سوال بھی مجاہدہ کے فلسفہ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔میں اس بات کو ہر گز باور نہیں کر سکتا اور نہ قرآن مجید اس کی تصدیق کرتا ہے کہ کوئی حقیقی نیکی یونہی ضائع چلی جائے۔پس یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص سچے دل اور پاک نیت کے ساتھ تمام ضروری لوازمات کوملحوظ رکھتے ہوئے رمضان کا مہینہ گزارے اور پھر بھی خدا کے دربار سے خالی ہاتھ لوٹ جائے۔ایسے لوگ یا تو محض منتر جنتر کے طور پر رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور یا رمضان کو صرف ایک وقتی کھیل سمجھتے ہیں۔اور رمضان گزارنے کے بعد پھر اسی طرح سفلی زندگی کی طرف جھک جاتے ہیں کہ گویا ان پر رمضان آیا ہی نہیں۔ورنہ یہ ہرگز ممکن نہیں کہ بیماری موجود ہو اور دوائی بھی تجربہ شدہ اور اعلیٰ اور گویا تیر بہدف استعمال کی جائے اور پھر بھی اس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ یا تو دوائی مطلقاً کھائی ہی نہیں گئی اور یو نہی سمجھ لیا گیا کہ دوائی کھائی ہے۔اور یا بیماری کے جراثیم اتنے وسیع اور گہرے ہیں کہ اس کے لئے زیادہ لمبے علاج اور لمبے پر ہیز کی ضرورت ہے۔اور بے وقت علاج چھوڑنے پر بیماری پھر عود کر آتی اور زور پکڑ جاتی ہے۔