مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 415 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 415

مضامین بشیر جلد سوم 415 (ii) بعض جنہیں یہ اختیار حاصل نہ ہو وہ زبان کے ذریعہ اصلاح کر دیتے ہیں۔اور (i) بعض جنہیں یہ طاقت بھی نہ ہو وہ دل میں بُرا ماننے اور دل میں دعا کرنے کے ذریعہ دوسروں کی اصلاح کا رستہ کھولتے ہیں۔پس جب که مصلح موعود کی اولین صفت یہ ہے کہ وہ روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا تو پھر جن لوگوں نے آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے رکھا ہے اور آپ کے انجن کے ساتھ گاڑیوں کی طرح پیوست ہو گئے ہیں ان کا بھی اولین فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں دنیا کے لئے سچے مصلح بننے کی کوشش کریں اور حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ دنیا میں بدی کو مٹاتے اور نیکی کو قائم کرتے چلے جائیں۔اس مقصد کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر روح الحق کی برکت پیدا کریں۔جو ہمیشہ خدا کے ذاتی تعلق میں جنم لیا کرتی ہے۔(2) دوسری خاص صفت جو الہامی پیشگوئی میں مصلح موعود کی بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ: وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا“ یہ صفت بھی ہر روحانی مصلح اور اس کی اتباع میں ہر سچے مومن کے لئے ایک ضروری صفت ہے۔جس کے بغیر کبھی بھی کوئی شخص ایک فعال مرد مجاہد نہیں بن سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو علم کو ایسا درجہ دیا ہے اور اس کے لئے مومنوں کو اس حد تک ترغیب دلائی ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایک دور دراز ملک اور کٹھن رستے والے علاقہ یعنی چین کا نام لے کر فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں علم سیکھنے کے لئے چین تک بھی جانا پڑے تو جاؤ اور خوشی سے جاؤ۔پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو سچے علم کے زیور سے آراستہ کرے اور پھر اس علم کے ذریعہ نئے نئے زیور تیار کر کے دوسروں کو بھی زینت دیتا چلا جائے۔پھر ایک خاص بات جو اوپر والے الہامی فقرہ میں بیان کی گئی ہے یہ ہے کہ مومنوں کا صرف یہی کام نہیں ہے کہ وہ علوم ظاہری کے پیچھے لگ کر علوم باطنی کو نظر انداز کر دیں۔یا علوم باطنی کا پیچھا کر کے اپنے آپ کو علوم ظاہری سے مستغنی سمجھیں۔بلکہ ضروری ہے کہ وہ دونوں قسم کے علوم سے مزین ہوں۔وہ علوم ظاہری بھی حاصل کریں اور علوم باطنی بھی حاصل کریں۔اور حاصل بھی اس طرح نہ کریں کہ صرف علم کا ایک چھینٹا پڑ جانے پر ہی قانع ہو جائیں بلکہ جیسا کہ الہامی الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔چاہئے کہ وہ اپنے امام کی اتباع میں اور اپنے آپ کو اسی کے رنگ میں رنگین کرنے کی غرض سے علوم کے خزانوں سے اس طرح پر یعنی معمور ہو جائیں جس طرح ایک اچھے اسپنج کا ٹکڑا پانی سے پر ہو جایا کرتا ہے اور اس کے