مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 414 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 414

مضامین بشیر جلد سوم 414 جاتا ہو کہ وہ اسی تیز رفتاری کے ساتھ انجن کے ساتھ چل سکیں جس پر کہ خودانجن چلتا ہے تو ظاہر ہے کہ ایسی گاڑی کبھی بھی وقت مقررہ پر اپنی منزل مقصود کو نہیں پہنچ سکتی۔بلکہ اسے قدم قدم پر حادثات کا اندیشہ رہتا ہے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان پر مصلح موعود کی ذات کے متعلق بعض مخصوص اوصاف بیان کئے ہیں وہاں لازماً ان کے ذریعہ یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ جماعت کو بھی اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تاکہ گاڑیوں اور انجن کے درمیان کامل اتحاد اور موافقت کی صورت قائم رہے اور گاڑی کم سے کم وقت میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔اور میں اس جگہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے یہ مختصر سا نوٹ لکھ رہا ہوں۔یوں تو مصلح موعود والی پیشگوئی میں مصلح موعود کے متعلق بہت سے اوصاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن وہ باتیں جن کا اس پیشگوئی میں مخصوص اشارہ ہے اور جو جماعت کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں وہ ذیل کی چار باتیں ہیں: (1) پہلی بات جو مصلح موعود والی پیشگوئی میں خصوصی رنگ رکھتی ہے اور اس بات کی نوعیت بھی دراصل ذاتی نہیں بلکہ جماعتی ہے وہ ذیل کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وہ روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا“ مصلح موعود کی یہ علامت جماعت احمدیہ کو ہوشیار کر رہی ہے کہ اپنے امام کی طرح اس کے ہر فرد کو بھی خدا سے تعلق پیدا کر کے اور روح الحق کے ساتھ واسطہ جوڑ کر اپنے اندر یہ طاقت پیدا کرنی چاہئے کہ وہ دوسروں کو بیماریوں سے صاف کر سکے۔یہی وہ اعلیٰ اور ارفع صفت ہے جو ہر روحانی مصلح کا طرہ امتیاز ہوا کرتی ہے۔یعنی ان میں اللہ تعالیٰ یہ اہلیت پیدا کر دیتا اور یہ صفت ودیعت فرماتا ہے کہ وہ لوگوں کی اخلاقی اور روحانی بیماریوں کو صاف کرنے اور بیماروں کو شفا دینے کی خاص الخاص طاقت رکھتے ہیں۔اسی لئے حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے بارہ میں بھی فرماتے ہیں کہ سچا مومن وہ ہوتا ہے کہ جب بھی اس کے سامنے کوئی خلاف اخلاق یا خلاف مذہب بات آتی ہے تو وہ فوراً چوکس ہو کر اس کی اصلاح کی طرف توجہ دینی شروع کر دیتا ہے اور خاموش ہو کر نہیں بیٹھ جاتا۔بلکہ آپ نے اس تعلق میں مومنوں کے تین مدارج بھی بیان فرمائے ہیں۔اور وہ یہ کہ: (i) بعض مومن ہاتھ کے ذریعہ یعنی اپنے انتظامی اور سماجی اختیارات کے ذریعہ دوسروں کے نقص کی اصلاح کر دیتے ہیں۔اور