مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 416 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 416

مضامین بشیر جلد سوم 416 اندر کوئی خلا باقی نہیں رہتا۔(3) تیسرا خاص نقطہ اس پیشگوئی میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ: ”مَظْهَرُ الْاَوَّلِ وَالْآخِرِ“ یعنی مصلح موعود خدا کی صفت اولیت اور صفت آخریت دونوں کا مظہر ہوگا ان مختصر الفاظ میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ مصلح موعود ایسے وقت میں ظاہر ہو گا کہ بعض درمیانی مشکلات اور درمیانی فتنوں کی وجہ سے گویا ایک لحاظ سے کام کی صرف ابتدائی تاریں ہی اس کے ہاتھ میں آئیں گی مگر وہ دن رات کی کوشش اور شب و روز کی جدو جہد کے ذریعہ ان تاروں کو گویا اپنے دائرہ کی انتہا تک پہنچا کر دم لے گا۔پس یہی صفت احباب جماعت کو بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے کہ جب وہ کسی کام کا آغاز کر کے اس کی اولیت کے مظہر بنیں تو پھر تھک کر اور ماندہ ہو کر درمیان میں ہی نہ بیٹھ جائیں بلکہ اسے اس کے کمال تک پہنچا کر دم لیں۔اسلام کا خدا ادھوری کوشش پر راضی نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر عمل کو اس کے کمال کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔لیکن افسوس کہ اکثر لوگ مَظْهَرُ الاَوَّل تو شوق سے بن جاتے ہیں مگر مَظْهَرا لآخر بننے سے پہلے ہی تھک کر بیٹھ جاتے ہیں۔حالانکہ سچے مومنوں کا یہ کام ہے کہ وہ جب کسی کام کو ہاتھ ڈالیں تو پھر اسے اس کی طبعی انتہا تک پہنچا ئیں اور کسی درمیانی مشکل سے ہراساں نہ ہوں۔اس الہامی فقرہ کے ساتھ دوسرا فقرہ یہ ہے کہ: مَظْهَرُا لُحَقِّ وَالْعُلَى اس میں یہ اشارہ ہے کہ مومنوں کو ایسا بننا چاہئے کہ ان کی جڑیں تو گہری اور مضبوط ہوں اور ان کی شاخیں آسمان سے باتیں کریں۔(4) آخری یعنی چوتھی صفت جو اس پیشگوئی میں مصلح موعود کی بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ: قومیں اس سے برکت پائیں گی“ یہ الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیع اور عالمگیر مشن کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے لائے گئے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود کا مشن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں عالمگیر مشن ہے اور آپ قرآنی شریعت کی خدمت میں ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں تو پھر لازماً مصلح موعود بھی یہی صفت لے کر آئے گا۔اور اس کے ہاتھ سے یہ بیچ صرف بویا ہی نہیں جائے گا بلکہ زمین کے شکم سے پھوٹ کر سرعت کے ساتھ بڑھنا بھی شروع ہو جائے گا۔اسلام کے دور اول میں حق وصداقت کا بیج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے بویا گیا اور حضور ہی کے ہاتھوں سے اس کا چھینٹا روم اور ایران اور مصر اور حبشہ وغیرہ تک