مضامین بشیر (جلد 3) — Page 397
مضامین بشیر جلد سوم 397 تربیت فرماتے رہے اور جہاں وہ ایک مقدس مزار میں مدفون ہیں۔ربوہ میں اس غرض کے لئے ایک دفتر صیغہ امانت میں ایک امانت زیر نام ” امانت مرمت مقدس مقامات کھول دی گئی ہے۔لہذا پاکستان کا سارا چندہ اس مد کے نام پر آنا چاہئے۔انشاء اللہ الفضل کے ذریعہ چندے کی وصولی کا وقتاً فوقتاً اعلان کیا جاتا رہے گا۔اسی طرح قادیان میں بھی اس غرض کے ماتحت ایک امانت کھلی ہوئی ہے۔ہندوستانی احباب کا چندہ وہاں جانا چاہئے اور دیگر ممالک کے احباب جہاں بھی انہیں سہولت اور قانون رائج الوقت اجازت دے سلسلہ کے کسی مقررہ ادارہ میں چندہ جمع کرا سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب بھائیوں اور بہنوں کو جزائے خیر دے۔جو اس مبارک تحریک میں حصہ لیں اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے ذریعہ ان کے قلوب میں تحریک کرے کہ وہ اس کار خیر میں اپنی توفیق کے مطابق بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔وَجَزَاهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ روزنامه الفضل ربوه 23 اکتوبر 1956ء) ایک غلط فہمی کا ازالہ خلافت کا دروازہ اصول ہر اہل شخص کے لئے کھلا ہے الفضل“ کی اشاعت مؤرخہ 30 نومبر 1956 ء کے صفحہ 4 پر ملک حسن محمد صاحب حال ساکن ضلع رحیم یارخان کا ایک نوٹ زیر عنوان ”سید نا حضرت مسیح موعود کی ایک خواب“ شائع ہوا ہے۔جس میں ملک صاحب موصوف نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک خواب کی بناء پر یہ استدلال کیا ہے کہ آئندہ خلافت احمدیہ کا سلسلہ ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان میں ہی چلے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ خواب ایک مشہور خواب ہے جو حضور کی بعض کتابوں اور تذکرہ میں شائع ہو چکا ہے۔اس خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا تھا کہ حضور کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کا نام قطبی ہے۔جب یہ کتاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور سے لی تو وہ ایک بڑا پھل بن گئی۔جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قاش قاش کر کے ایک قاش تو حضور کے ذریعہ ایک ایسے شخص کو دے دی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معجز نمائی سے زندہ ہو کر حضور کے پیچھے کھڑا ہوا تھا اور باقی تمام قاشیں حضرت