مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 398 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 398

مضامین بشیر جلد سوم 398 مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دامن میں ڈال دیں۔اس خواب سے ملک حسن محمد صاحب نے یہ استدلال کیا ہے کہ پھل کی قاشوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خلافت مراد تھی اور یہ کہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت کو چھوڑ کر ( جو گویا خواب کے نظارہ میں پہلی قاش کی قائم مقام تھی ) باقی تمام خلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل میں سے ہونے مقدر ہیں۔ملک حسن محمد صاحب ایک پرانے اور مخلص احمدی ہیں اور ہر شخص کو اپنی رائے کے مطابق استدلال کرنے کا حق ہے۔لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ جو استند لال ملک حسن محمد صاحب نے کیا ہے وہ اپنے وقت سے قبل ایک ذاتی اور ذوقی استدلال ہے جس کی اشاعت کی ضرورت نہیں تھی۔اصولی لحاظ سے جو تعلیم آیات قرآنی میں دی گئی ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ خلافت کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ خلافت کا دروازہ ہر اہلیت رکھنے والے شخص کے لئے کھلا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ خلافت یا امامت کا سلسلہ کسی صورت میں بھی ایک خاندان میں نہیں چل سکتا کیونکہ جیسا کہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان میں امامت کا سلسلہ پانچ یا ایک لحاظ سے چھ افراد تک جاری رہا۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ایک ہی خاندان سے دو امام بنے۔اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند ارجمند نے امامت پائی۔اسی طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام سے قبل ان کے خالہ زاد بھائی حضرت یحی اور ان سے قبل حضرت زکریا مامور ہوئے اور حضرت بیٹی نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بپتسمہ دیا اور بالآخر ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اگر میرا بچہ ابراہیم زندہ رہتا تو وہ نبی بنتا۔یہ سب با تیں تاریخی لحاظ سے بالکل صحیح اور درست ہیں لیکن یہ دائی صداقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ خلیفہ یا امام بنانا خدا کا فعل ہے جس کے متعلق کسی قطعی اور صریح اور یقینی ارشاد الہی کے بغیر یہ کہنا کہ آئندہ خلافت لازماً فلاں خاندان میں رہے گی میرے نزدیک درست نہیں۔ہمارا جماعتی عقیدہ جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے صرف اس قدر ہے کہ (اول) خلیفہ خدا بناتا ہے جیسا کہ آیت استخلاف میں بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ بظاہر مومنوں کے انتخاب کے باوجود حقیقتا تقدیر خدا کی چلتی ہے اور ( دوم ) خلافت کا منصب ہر اس شخص کے لئے کھلا ہے جو اپنے زمانہ میں اس کا سب سے زیادہ اہل ہو۔جیسا کہ آیت تُؤدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء:59) میں مذکور ہے۔علاوہ ازیں ایسی باتوں کے متعلق قبل از وقت قیاس کرنا یا کسی خواب وغیرہ کی بناء پر ذاتی استدلال کر کے اس کی اشاعت کرنا درست نہیں بلکہ موجب فتنہ ہو سکتا ہے۔صحیح طریق یہ ہے کہ ایسی باتوں کو ان کے