مضامین بشیر (جلد 3) — Page 396
مضامین بشیر جلد سوم 396 کھود نے سے بھی پانی نکل آتا ہے اور قادیان کے اکثر مقامات کافی شکستہ ہو کر قابل مرمت ہورہے ہیں۔یہ صورت حال عمارتوں کے لئے سخت خطر ناک ہے اور جماعت کا فرض ہے کہ قادیان کی مقدس عمارتوں خصوصاً مسجد مبارک اور دار مسیح اور سجد اقصیٰ کو محفوظ رکھنے کے لئے پوری توجہ اور واجبی کوشش سے کام لیا جائے۔جس کے لئے کافی خرچ کی ضرورت ہوگی۔قادیان کے دوستوں کا اندازہ ہے کہ مسجد مبارک اور دارا مسیح اور مسجد اقصی کی عمارتوں کی مرمت کے لئے نیز مقبرہ بہشتی اور مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حفاظت کے لئے کم از کم پچیس ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ورنہ اگر اس کام کی طرف وقت پر توجہ نہ کی گئی تو بعد میں زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔قادیان کی مقدس عمارتوں کی حفاظت کی ذمہ داری صرف ہندوستان کی جماعتوں پر ہی نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر پاکستان کی جماعتوں پر ہے اور خصوصاً ان مہاجر احمد یوں پر ہے جو قادیان سے اور پنجاب کے دوسرے اضلاع سے ہجرت کر کے پاکستان آئے ہوئے ہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ یہ ذمہ داری دنیا بھر کی احمدی جماعتوں پر ہے کہ وہ قادیان کے مقدس مقامات کو پوری طرح اچھی اور تسلی بخش حالت میں رکھیں۔عمارتوں کا یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ اگر چھوٹی سی شکست وریخت کو بھی مناسب وقت پر نظر انداز کیا جائے تو کچھ عرصہ کے بعد وہ بہت وسیع ہو کر غیر معمولی اخراجات کی متقاضی ہو جاتی ہے۔پس میں جماعت کے جملہ مخلص دوستوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کارِ خیر کی طرف فوری توجہ فرمائیں اور قریب ترین عرصہ میں اتنا روپیہ جمع کر دیں کہ قادیان کی مقدس عمارتوں اور ان کے علاوہ درویشوں کے مکانوں کی خاطر خواہ مرمت ہو سکے۔ورنہ وقت گزر جانے پر یہی کام جواب چند ہزار روپیہ خرچ کر کے کیا جا سکتا ہے لاکھوں روپے سے کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔پس پاکستان اور ہندوستان دونوں کے مخلص احمدیوں کو اس کارخیر میں فوری طور پر حصہ لے کر ثواب کمانا چاہئے۔قو میں اپنی روایتوں اور اپنے مقدس مقاموں کی وابستگی کے ساتھ ہی زندہ رہتی ہیں۔سکھ قوم نے یہاں تک کیا کہ جہاں حضرت باوا صاحب نے چند گھنٹے بھی قیام کیا یا جہاں اتفاقی طور پر بھی ان کا قدم پڑ گیا، یا جہاں کسی درخت کے نیچے انہوں نے چند لمحے ٹھہر کر آرام کیا اسے بھی انہوں نے گویا اپنا مقدس مقام قرار دے کر اس کی حفاظت اور اس کے اکرام کو ایک قومی فرض قرار دے لیا۔تو کیا اسلام اور احمدیت کے نام لیوا ان مقامات کی واجبی مرمت سے غفلت برتیں گے؟ جہاں ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیدا ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے ایام گزارے، جہاں انہوں نے اپنے خدا کی دن رات عبادت کی ، جہاں ان پر خدا کی تازہ بتازہ وحی نازل ہوتی رہی، جہاں وہ اپنے مخلص صحابہ میں بیٹھ کر ان کی دینی اور روحانی