مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 366 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 366

مضامین بشیر جلد سوم 366 حدیث میں فرمایا ہے کہ اگر تم تلوار کے زور سے ایک بستی کی آبادی کا سر قلم کر دو تو اس سے بہتر یہ بات ہے کہ تمہارے ذریعہ ایک بھٹکتی ہوئی روح اسلام کی طرف ہدایت پا جاوے۔تیسرا اگر یہ ہے کہ تبلیغ کرنے والا اپنے عقائد اور خیالات کا خود بہترین نمونہ ہو اور یہ نہ ہو کہ اس کا قول تو کچھ ہو اور اس کا عمل اس کے قول کے خلاف ہو۔یقینا کسی شخص کی تبلیغ کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے فعل کو اپنے قول کے مطابق بنا کر اپنے عقائد کا اعلیٰ نمونہ پیش نہیں کرتا۔اس لئے قرآن مجید فرماتا ہے: لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف:3) یعنی اے لوگو ! تم ان باتوں کی تلقین کرتے ہو جن پر تمہارا خود عمل نہیں۔اور اس ذریعہ سے تم دنیا میں کیا تبدیلی پیدا کرنے کی امید کر سکتے ہو۔پس ضروری ہے کہ ہر مبلغ سب سے پہلے اپنے عقائد کا خود بہترین نمونہ بنے۔وہ اگر دوسروں کو توحید کی تلقین کرتا ہے تو پہلے اپنے آپ کو خود موحد ثابت کرے اور ہر قسم کے ظاہری اور مخفی شرک سے مجتنب رہے۔وہ اگر نماز روزہ کی نصیحت کرتا ہے تو سب سے پہلے خودنماز روزہ کا نمونہ پیش کرے۔وہ اگر خلق اللہ کی ہمدردی کا وعظ کرتا ہے تو سب سے پہلے خود خلق خدا کی ہمدردی کا عملی نمونہ بنے وَغَيْره ذَالِكَ۔اس کے بغیر کوئی تبلیغ مؤثر نہیں ہو سکتیا ور ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔تبلیغ کا آخری سنہری گر یہ ہے کہ انسان تبلیغ کے ساتھ ساتھ اپنی تبلیغ کی کامیابی اور حق وصداقت کی اشاعت اور غلبہ کے لئے خدا سے دعا بھی کرتا رہے۔دعا میں بڑی برکت اور بڑی طاقت ہے۔لیکن افسوس ہے کہ اس زمانے کے مادہ پرست لوگ اس طاقت کو بھولے ہوئے ہیں۔میں اگر دعا کو ایک روحانی ایٹم بم سے تعبیر کروں تو بیجا نہ ہوگا۔حقیقت میں دعا نیکی کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے اور خدا کے فضلوں کو کھینچنے اور اس کی تلخ تقدیروں سے بچانے کا ایک بہت طاقتور ذریعہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر ہمارے دوست جو اس وقت ہندوستان میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کرنے میں مصروف ہیں اوپر کے چار گروں پر عمل کریں گے اور انہیں اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنا ئیں گے تو ان شاء اللہ انہیں حسب استعداد ضرور کامیابی ہوگی۔اس وقت خدائی تقدیر اسلام کو پھیلانے میں برسر کا رہے اور اس کے فرشتے دن رات لوگوں کے دلوں میں ایک جستجو کی کیفیت اور ایک نیک تبدیلی پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں آج سے 30 سال پہلے اسلام کے متعلق مغربی ممالک کا رویہ جرح و تنقید یعنی (Criticism) تھا وہاں اب وہ بدل کر قدرشناس (appreciation) کا رویہ بن گیا ہے اور دلوں میں ایک عظیم تغیر پیدا ہو رہا ہے۔دنیا جانے یا نہ جانے یہ تغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود