مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 365 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 365

مضامین بشیر جلد سوم 365 لفظ اس شخص کے متعلق بولا جاتا ہے جو اپنے عقائد کو صداقت اور راستی پر مبنی یقین کرتے ہوئے دوسرے لوگوں تک اپنے خیالات پہنچاتا اور انہیں اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ ہر کوشش میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بعض خاص گر ہوا کرتے ہیں اور جہاں تک میں نے قرآن وحدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم سے معلوم کیا ہے اسلام کی تبلیغ کے لئے چار سنہری گر ہیں۔جنہیں اختیار کرنے سے خدا کے فضل سے یقینی کا میابی حاصل ہو سکتی ہے۔۔پہلی بات یہ کہ انسان جن خیالات اور عقائد کی تبلیغ کرنا چاہے ان کے متعلق صحیح اور پختہ معلومات حاصل کرے اور محض سنی سنائی باتوں اور کمزور حکایتوں پر اپنی تبلیغ کی بنیاد نہ رکھے۔اس لئے ضروری ہے کہ اسلام اور احمدیت کا مبلغ سب سے پہلے اپنے آپ کو احمدیت اور اسلام کی صحیح اور مستند تعلیم سے واقف کرے۔اس کے بغیر تبلیغ کرنے والا شخص قدم قدم پر ٹھو کر کھائے گا اور بعض اوقات غلط عقائد کی اشاعت کا موجب بھی بن جائے گا اور خدائی نصرت سے بھی محروم رہے گا۔اس زمانہ میں اسلام اور احمدیت کے متعلق صحیح اور پختہ معلومات کا ذریعہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیفات اور حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تحریرات ہیں۔پس ہر مبلغ اسلام اور مبلغ احمدیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان چاروں علم کے منہوں سے پوری پوری واقفیت حاصل کرے۔تبلیغ کا دوسراگر طریق تبلیغ سے تعلق رکھتا ہے۔جس کے لئے قرآن شریف فرماتا ہے: أدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) یعنی اے مسلمانو ! لوگوں کو حق کی طرف بلاتے ہوئے ایسے دلائل استعمال کیا کرو جن میں براہین عقلیہ کے علاوہ جذباتی اپیل اور روحانی خلیفہ کا خمیر بھی شامل ہو اور پھر اس بات کی احتیاط رکھو کہ تبلیغ کرتے ہوئے کوئی کبھی یا محض ذوقی بات نہ کہی جائے بلکہ صرف احسن بات پر بنیا د رکھی جائے جو ہر لحاظ سے پختہ اور قابل اعتماد ہو اور پھر اس میں ضمناً یہ بھی اشارہ کر دیا گیا ہے کہ تبلیغ کے لئے جبر کرنا یا تشدد سے کام لینا جائز نہیں۔بلکہ مناسب اور دکش طریق پر لوگوں کو حق و صداقت کی طرف بلانا چاہئے۔یہ ایک ایسی سنہری ہدایت ہے کہ اگر اسلام اور احمدیت کی تبلیغ اس ایک نصیحت پر ہی پختہ طور پر قائم ہو جائے تو وہ انشاء اللہ عظیم الشان تغییر پیدا کر سکتی ہے۔ان کی تبلیغ اول حکمت ہو۔دوم موعظہ حسنہ ہو۔سوم احسن دلائل پر بنیاد ہو۔چہارم ان کا جدال تلوار اور بندوق پر مبنی نہ ہو بلکہ دلائل اور براہین پر مبنی ہو۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک