مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 367 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 367

مضامین بشیر جلد سوم 367 علیہ السلام کے انفاس قدسیہ اور روحانی توجہ کا نتیجہ ہے۔پس اس وقت کی خدمت حقیقتا ایک مفت کا اجر رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کیا خوب فرماتے ہیں کہ : بمفت ایں اجر نصرت را، دہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا ( در تمین فارسی صفحه 119 ) روزنامه الفضل 30 مئی 1956ء) فضل عمر ہسپتال کا نام کچھ عرصہ ہوار بوہ کے جماعتی ہسپتال کے متعلق ہسپتال کے عملہ نے حضرت صاحب سے درخواست کی تھی کہ اب جب کہ ربوہ میں ہسپتال کی اپنی مستقل پختہ عمارت تعمیر ہورہی ہے تو اس کا کوئی نام بھی تجویز فرما دیا جائے اور عملہ نے اپنی طرف سے فضل عمر ہسپتال نام تجویز کر کے بھیجا۔حضرت صاحب نے اس نام کو منظور فرما لیا مگر اس نام کا شائع ہونا تھا کہ بعض لوگوں کی طرف سے حضرت صاحب کی خدمت میں اعتراضات پہنچنے شروع ہو گئے کہ ہسپتال کے سابقہ نام کو جو ” نور ہسپتال“ تھا کیوں بدلا گیا ہے؟ ان دوستوں نے لکھا کہ سابقہ نام حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول کے نام پر رکھا گیا تھا اور حضرت خلیفہ اول کو طب کے ساتھ خصوصی تعلق بھی تھا اس لئے وہی سابقہ نام جاری رہنا چاہئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ نے اس اعتراض کا مناسب تشریحی جواب دیا جو الفضل میں چھپ چکا ہے مگر اس پر بھی ان لوگوں کی تسلی نہیں ہوئی اور حضرت صاحب کی خدمت میں مزید خطوط پہنچنے شروع ہو گئے کہ کہ وہی پرانا نام یعنی نور ہسپتال‘ رہنے دیا جائے۔چنانچہ حضرت صاحب کو پھر دوبارہ تشریحی اعلان کرنا پڑا جس میں کسی قدر تلخی کا رنگ تھا۔اس تعلق میں یہ خاکسار احباب جماعت سے عرض کرنا چاہتا ہے کہ اصل چیز تو حقیقت ہوتی ہے۔ناموں کا سوال کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا۔اندریں حالات اس قسم کے رسمی امر میں حضرت صاحب کی خدمت میں بار بار خط لکھ کر حضور کو پریشان کرنا خصوصاً جب کہ حضور کی طبیعت علیل ہے اور حضور کو آرام وسکون کی ضرورت ہے بہت ہی نا مناسب بات ہے۔بے شک شروع میں مجھے بھی نام کی یہ تبدیلی کچھ غیر مانوس اور غیر ضروری سی نظر آئی تھی لیکن جب حضرت صاحب نے اس کی تشریح فرما دی تو ہر مخلص کو تسلی پا کر خاموش