مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 333 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 333

مضامین بشیر جلد سوم 333 ان کا یہ تحفہ بڑی محبت اور شکریہ کے ساتھ قبول کرتی تھیں اور اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ ان کی چیز بڑی صاف اور ستھری ہوتی ہے۔مرحومہ بہت سادہ مزاج عورت تھیں اور حضرت ام المومنین اور خاندان حضرت مسیح موعود کے ساتھ بہت اخلاص رکھتی تھیں۔اسی طرح ان کے شوہر مولوی قطب الدین صاحب مرحوم بھی قدیم اور مخلص احمدیوں میں سے تھے۔حتی کہ ایک دفعہ انہوں نے فرمایا کہ جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کرتہ پر سرخ روشنائی کے چھینٹے پڑنے کا نشان ظاہر ہوا ( یہ غالباً 1884 ء کا واقعہ ہے ) اس دن میں بھی قادیان میں موجود تھا۔مولوی صاحب جب تک ہجرت کر کے قادیان میں نہیں آگئے وہ احمدیت کی تبلیغ میں والہانہ رنگ میں مصروف رہتے تھے۔انہیں بسا اوقات مخالفین کی طرف سے مار پڑتی ، دکھ دیئے جاتے اور گالیاں ملتیں۔مگر یہ بنده خدا ان سب تکلیفوں کو برداشت کر کے دن رات تبلیغ میں لگا رہتا تھا۔قادیان کی ہجرت کے بعد مولوی صاحب مرحوم نے حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی شاگردی اختیار کی اور بہت جلد اچھے طبیب بن گئے اور قادیان کے ماحول اور خصوصاً سکھوں میں ان کی طب خوب چمک گئی تھی۔اس سے قبل ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے طب کی تعلیم کے لئے مولوی محمد شریف صاحب امرتسری کے پاس بھی ان کی سفارش کی تھی جو بہت مشہور طبیب تھے۔اللہ تعالیٰ ان دونوں بزرگوں کو غریق رحمت کرے اور ان کی اولادکوان کی نیک صفات کا وارث بنائے اور دین و دنیا میں ان کا حافظ و ناصر ہو۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مولوی قطب الدین صاحب کی اہلیہ کی وفات کی اطلاع پا کر جو ہمدردی کی تاران کے لڑکے مولوی محمد اسماعیل صاحب کو بھجوانے کے لئے نوٹ کروائی تھی اس میں دعائیہ کلمات کے علاوہ یہ الفاظ بھی لکھے تھے کہ: مرحومہ ایک طرف حضرت مسیح موعود اور حضرت ام المومنین اور دوسری طرف موجودہ نسل کے درمیان ایک قدیم کڑی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کی روح پر برکات نازل کرے“ محررہ 28 جنوری 1956ء) روزنامه الفضل ربوه یکم فروری 1956ء)