مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 332 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 332

مضامین بشیر جلد سوم 332 أَنْعَمْتُ عَلَيْكَ غَرَسْتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِی“ ہے۔جس کا ترجمہ اوپر درج کیا جاچکا ہے۔ان قرعوں میں نگینہ کی درج شدہ عبارت و حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔لیکن ہر قرعہ پر ہم تینوں بھائیوں کے الگ الگ نام حضرت ام المومنین کے ہاتھ کے ہیں۔یعنی جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ والے قرعہ پر محمود احمد لکھا ہے اور میرے والے قرعہ پر بشیر احمد لکھا ہے اور عزیزم میاں شریف احمد صاحب والے قرعہ پر شریف احمد لکھا ہے یہ تینوں نام حضرت ام المومنین نے قرعہ نکالنے کے بعد خود اپنے ہاتھ سے لکھے تھے۔اس طرح ان قرعوں کا چہ بہ چھاپنے سے یہ غرض بھی حاصل ہو جاتی ہے کہ حضرت ام المومنین اور حضرت خلیفہ حتی الثانی ایدہ اللہ تعالی کےدستخط کا نمونہ احمدیت کی تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا تو جو مقام ہے وہ ظاہر ہی ہے۔دوست دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور عزیزم میاں شریف احمد صاحب کو بھی اس مبارک کلام کا مصداق بنائے جو قرعہ کے ذریعہ نکلنے والی انگوٹھیوں میں درج ہے۔وَآخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محرره 25 جنوری 1956ء) روزنامه الفضل ربوہ 28 جنوری 1956ء) مولوی قطب الدین صاحب اور ان کی اہلیہ صاحبہ مرحومہ چند دن ہوئے حکیم مولوی قطب الدین صاحب مرحوم کی اہلیہ مسماۃ حاکم بی بی کا جنازہ راولپنڈی سے ربوہ لایا گیا اور ان کے ساتھ ہی خود مولوی صاحب مرحوم کا جنازہ بھی (جو چند سال قبل فوت ہوئے تھے ) پنڈی سے ربوہ آیا اور اس طرح یہ دونوں میاں بیوی اکٹھے ہی مقبرہ موصیان ربوہ میں دفن ہوئے۔مولوی صاحب کی بیوی کی وفات سے حضرت ام المومنین کی یاد تازہ ہوگئی۔کیونکہ حضرت ام المومنین کے ساتھ ان کا بہت مخلصانہ تعلق تھا۔حضرت ام المومنین جب کبھی اس طرف کو سیر وغیرہ کے لئے جاتی تھیں تو ان کے گھر میں جھانک کر ان کو بھی ساتھ جانے کے لئے بلالیتی تھیں اور اکثر اوقات حضرت ام المومنین کے لئے اپنے گھر سے مکھن اور کسی اور سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی اور گنے کے رس کی کھیر وغیرہ لایا کرتی تھیں اور اماں جان