مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 294 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 294

مضامین بشیر جلد سوم 294 شرح صدر سے قبول کیا جائے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو اس ہدایت کی حکمت بھی ظاہر ہے۔وہ حکمت جیسا کہ میں سمجھا ہوں یہ ہے کہ اپنے مقدس مرکز کے ساتھ جماعت کا اصل اور حقیقی رشتہ رہائشی مکانوں کا ہوا کرتا ہے۔پس حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا کہ جماعت خود اپنے ہاتھ سے اس رشتہ کو کاٹ دے۔اس لئے رہائشی مکانوں کے معاوضہ کے مطالبہ سے روک دیا گیا ہے۔تا کہ جماعت کے مقدس مرکز کے ساتھ اس کے روحانی اتصال کی ظاہری علامت قائم رہے۔باقی رہا دیگر جائیداد کا سوال یعنی اراضی اور دوکانات اور کارخانہ جات وغیرہ سو وہ روزی کمانے کا ایک دنیوی ذریعہ ہے۔جس کا مرکز کے تقدس کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں۔اس لئے اس کی اجازت دے دی گئی ہے تا کہ ایک طرف جماعت کے دلوں میں اپنے مرکز کے تقدس کا احساس قائم رہے۔اور دوسری طرف جماعت کے دنیوی حقوق پر بھی اثر نہ پڑے۔اور ان کے لئے روزی کمانے کے ذرائع کھلے رہیں۔یہ توجیہ جو میں نے اپنی طرف سے بیان کی ہے۔ایسی واضح اور عیاں ہے کہ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔بہر حال میں امید کرتا ہوں کہ اس اعلان کے بعد دوست اس معاملہ میں مزید سوالات کا سلسلہ بند کر کے اپنے امام کی ہدایت کو شرح صدر سے قبول کریں گے۔کیونکہ ان کے لئے اسی میں برکت ہے۔اگر اس فیصلہ میں جماعت کا کوئی ظاہری اور مادی نقصان ہے تو بعید نہیں کہ خدا جو ساری نعمتوں کا مبداً اور ساری دولتوں کا خزانہ ہے۔اپنے فضل سے ان کے نقصان کی کمی کسی اور طرح پر پوری فرما دے۔بشرطیکہ وہ نیک نیتی کے ساتھ امام کی ہدایت کو قبول کریں۔وَ لَعَلَّ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْ قَدِيرٌ (الطلاق:2) نوٹ : دیگر جائیداد کے مطالبہ کے طریق کے متعلق دوست میرا نوٹ شائع شدہ الفضل مورخہ 21 جون ملاحظہ فرمائیں۔اور اگر کوئی مزید خط و کتابت کرنی ہو تو ناظر صاحب امور عامہ ربوہ کے ساتھ کریں۔( محررہ 7 جولائی 1955 ء ) روزنامه الفضل 12 جولائی 1955ء)