مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 293 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 293

مضامین بشیر جلد سوم 293 29 متروکہ مکانوں کے متعلق ایک دوست کے سوال کا جواب رہائشی مکانوں کے معاوضہ سے منع کرنے کی حکمت جیسا کہ الفضل میں بار بار اعلان کیا جا چکا ہے۔حضرت خلیفہ لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعتی مفاد کے ماتحت قادیان کے متروکہ مکانوں کے معاوضہ کا مطالبہ کرنے سے منع فرمایا ہے اور ساتھ ہی حضور نے یہ تصریح فرما دی تھی کہ اس فیصلہ کا اثر دوسروں کی نسبت خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان پر زیادہ پڑتا ہے۔لیکن چونکہ یہ ایک اصولی اور جماعتی سوال ہے اس لئے قطع نظر کسی کے فائدہ یا نقصان کے حضور نے دینی مفاد کے ماتحت یہ فیصلہ کرنا مناسب خیال کیا ہے۔کہ قادیان کے رہائشی مکانوں کے معاوضہ کا مطالبہ نہ کیا جائے مگر یا تو الفضل سب لوگوں کو نہیں پہنچتا یا بعض لوگ اعلانوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔بعض دوست اب تک یہ سوال کئے جاتے ہیں کہ قادیان کے متروکہ مکانوں کے متعلق جماعت کا کیا فیصلہ ہے؟ سو آخری تشریح اور توضیح کے طور پر اعلان کیا جاتا ہے کہ اس بارے میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا خلاصہ ذیل کے دو مختصر فقروں میں آجاتا ہے:۔(1) اول یہ کہ قادیان کے جس حلقہ میں اس وقت درویش رہتے ہیں یعنی پرانی آبادی والے حصہ میں مسجد اقصیٰ سے لے کر بہشتی مقبرہ تک کا علاقہ اس میں تو ہر قسم کی جائیداد (مکانات دوکانات، کارخانہ جات وغیرہ) کے معاوضہ کا مطالبہ منع ہے۔(2) دوسرے یہ کہ درویشوں والے حلقہ سے باہر قادیان کے دوسرے محلوں میں صرف رہائشی مکانوں کے بدل کا مطالبہ منع ہے۔باقی ہر قسم کی جائیداد ( اراضی دوکانات ، کارخانہ جات) کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔اس پر ایک دوست سوال کرتے ہیں کہ رہائشی مکانوں کے معاوضہ سے کیوں روکا گیا ہے۔اور یہ کہ اس طرح تو جماعت کا کافی مالی نقصان ہو جائے گا اور ممکن ہے بعض اور تکلیف دہ نتائج بھی پیدا ہوں۔سواس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ جماعتی تنظیم میں یہ سوال پیدا نہیں ہوا کرتا کہ کسی حکم کی حکمت کیا ہے۔بلکہ رسول پاک کے ارشاد کے مطابق سمعاً وَ طَاعَةً کا اصول چلتا ہے۔اور دوست یہ بھی جانتے ہیں کہ آج تک جماعت اپنے امام کی ہدایات پر عمل کر کے خدا کے فضل سے ہر قسم کی برکات سے حصہ پاتی رہی ہے۔پس اگر کسی دوست کو اس ہدایت کی حکمت سمجھ میں نہ بھی آئے تو پھر بھی جماعتی تنظیم کا تقاضا ہے کہ امام کی ہدایت کو