مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 220 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 220

مضامین بشیر جلد سوم 220 سے اسے منظورِ خدا کے میدان میں داخل کر کے میرا کام کر دے۔پس منظورِ خدا کا فلسفہ بے شک حق ہے لیکن دعا کا فلسفہ اس فلسفہ سے ٹکرا تا نہیں بلکہ اسی فلسفہ کی ایک شاخ ہے کیونکہ دعا کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ خدائے رحیم و کریم سے اپنا کام منظور کرایا جائے۔اور جب کوئی دعا قبول ہو جاتی ہے تو یہی بات منظور خدا بن جاتی ہے۔یہ ایک موٹی سی بات ہے جس کے سمجھنے میں کوئی روک نہیں ہونی چاہئے۔ہمارے یہ دوست اپنے خط میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ دعا غالباً محض ایک عبادت ہے۔ورنہ جوسلسلہ خدا تعالیٰ نے قضا و قدر اور تقدیر خیر وشر کے طور پر جاری کر رکھا ہے اسی کے تحت سب کچھ ہو رہا ہے۔سواس سے بھی قبولیت کا مسئلہ کس طرح رد ہو گیا ؟ تقدیر اپنی جگہ ہے اور دعا اپنی جگہ ہے۔دونوں میں ہرگز کوئی ٹکراؤ نہیں۔جس طرح قانونِ قضا و قدر خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا مادی قانون ہے اسی طرح دعا اور اس کی قبولیت کا قانون خدا کا بنایا ہوا روحانی قانون ہے اور دونوں برحق ہیں بلکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو دراصل یہ دونوں قانون خدا کے واحد از لی قانون ہی کا حصہ ہیں کیونکہ قضا وقدر تقدیر عام ہے اور دعا اور اس کی قبولیت تقدیر خاص سے تعلق رکھتی ہے۔اور جیسا کہ میں اپنے ایک دوسرے مضمون میں صراحت سے ذکر کر چکا ہوں۔خوارق اور معجزات بھی اسی تقدیر خاص ہی کا حصہ ہیں۔بہر حال میں اپنے اس پریشان خیال دوست سے عرض کروں گا کہ خدا کے لئے آپ اپنی کسی دعا کی عدم قبولیت سے گھبرا کر دعا کے مبارک دامن کو ہر گز ہا تھ سے نہ چھوڑیں۔کیونکہ یہی تو وہ پہلا اور آخری کھونٹا ہے جو انسان کو خدا سے باندھتا ہے۔اسے چھوڑ کر آپ نعوذ باللہ دہریت کے ورے ورے کہیں نہیں رک سکتے۔آپ کو چاہئے کہ دعا کے متعلق اپنی اس گھبراہٹ کو دعا کے ذریعہ ہی دور کرنے کی کوشش کریں۔چوں علاج کے نئے وقت خمار و التهاب میں اپنے اس دوست کو یہ بھی مشورہ دوں گا کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف حقیقۃ الوحی“ کا نشانوں والا حصہ بھی ضرور پڑھیں اور بار بار پڑھیں۔اس سے انشاء اللہ آپ کے بے چین دل کو تسکین حاصل ہو گی۔اور آپ دیکھیں گے کہ ہمارا مہربان آسمانی آقا اپنے بندوں کی دعائیں کس طرح سنتا اور کس طرح قبول کرتا ہے۔اور پھر آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ شعر تو ضرور یاد ہونے چاہئیں۔جو حضور نے سرسید احمد خاں مرحوم بانی مدرستہ العلوم علی گڑھ کومخاطب کر کے فرمائے کہ ؎ ایکہ کوئی گر دُعا ہا را اثر بودے کجاست سوئی من بشتاب بنمایم ترا چون آفتاب