مضامین بشیر (جلد 3) — Page 221
مضامین بشیر جلد سوم 221 ہاں ممکن انکار زیں اسرار قدرت ہائے حق قصہ کوتہ کن یہ میں از ما دُعائے مستجاب الہ اللہ ! یہ کیسا شاندار کلام ہے اور کیسی تحدی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے! اور پھر یہ دعا پنڈت لیکھر ام لیڈر آریہ سماج کی پیشگوئی کی صورت میں کس شان کے ساتھ پوری ہوئی !! نماز کی برکات اس دوست کا دوسرا سوال نماز کی برکات کے متعلق ہے۔لکھتے ہیں کہ میں نے کئی نمازیوں کو بلکہ تہجد پڑھنے والے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ اکثر ضدی اور صرف اپنا نفع دیکھنے والے اور دوسروں کا حق مارنے والے ہوتے ہیں۔اور اس کے مقابل پر میں نے کئی غیر نمازی شریف اور منصف مزاج اور دیانتدار دیکھے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے۔کیا نماز فحشاء اور منکر سے نہیں روکتی ؟ اس کے جواب میں میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ گوا کثر تو نہیں مگر بعض لوگ بے شک ایسے ہوں گے جو بظا ہر نماز پڑھنے کے باوجود اس قسم کے گنا ہوں میں مبتلا رہتے ہوں گے۔لیکن کیا ہمارے اس جلد باز دوست نے قرآن مجید کا یہ ارشاد نہیں پڑھا کہ ویل لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَآءُ وُنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ (الماعون: 5-8) یعنی ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لئے جو دکھاوے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔اور انہوں نے صرف ایک خالی برتن روک رکھا ہے مگر اس برتن کے اندر والے دودھ کو کھو بیٹھے ہیں۔تو جب خود قرآن مجید بعض نمازیوں کے متعلق اس قسم کا فتوی دے رہا ہے کہ ان کی نماز ایک خالی برتن یا ایک مُردہ جسم سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تو ہمارے اس دوست نے یہ سوال بیان کر کے ہرگز کسی نئی حقیقت کا انکشاف نہیں کیا بلکہ ایک مسلّمہ اسلامی صداقت کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے۔کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ صرف ایک رسمی قسم کی نماز اور مرغی کی طرح چار چونچیں مارنے سے وہ عظیم الشان روحانی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو حقیقی نماز کے ساتھ وابستہ ہیں؟ ہر گز نہیں ہرگز نہیں۔حقیقی نماز تو وہ ہے جس کے متعلق ہمارے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ) صحیح بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبریل النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الایمان)۔یعنی کچی نماز یہ ہے کہ جب تو نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو تو اس یقین سے معمور ہو اور اس بات کو ایک زندہ حقیقت کے طور پر محسوس کر رہا ہو کہ میں خدا کو دیکھ رہا ہوں اور خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔اور اگر یہ نہیں تو کم از کم تو یہ محسوس کر رہا ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔کیا ہمارے سوال کرنے والے