مضامین بشیر (جلد 3) — Page 219
مضامین بشیر جلد سوم 219 کے ساتھ اپنی دعا کو جاری رکھا اور آخر دعا کا پھل پا لیا۔غالباً ہمارے اس بے صبر ہونے والے دوست کا ریکارڈ تو ابھی تک اس مدت کو نہیں پہنچا ہو گا۔تو پھر بے چینی کیسی ؟ کیا خدا نعوذ باللہ اپنے بندوں کا غلام ہے کہ ادھر ان کے منہ سے دعا کے کلمات نکلیں اور اُدھر خدا نے سَمْعاً وَ طَاعَةً کہتے ہوئے ان کے ارشاد کی تعمیل کر دی؟ ظاہر ہے اور ہر عقل مند انسان اس بات کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ خدا انسان کا آقا اور خالق و مالک ہی نہیں بلکہ اس کا رب یعنی مربی بھی ہے۔اس لئے وہ عاؤں کے قبول کرنے یا نہ کرنے میں اپنی سنت اور وعدہ کو محوظ رکھنے کے علاوہ دعا کرنے والے کے صبر اور شکر اور اس کی قلبی روح کا امتحان بھی کرنا چاہتا ہے اور اسے یہ سبق بھی دینا چاہتا ہے کہ دعا کوئی منتر جنت نہیں ہے کہ ادھر منہ سے ایک بات نکلی اور اُدھر قبول ہوگئی۔بلکہ دعا کی قبولیت ایک خاص قلبی کیفیت اور لیے مجاہدہ کو چاہتی ہے۔مگر کیا کیا جائے کہ خُلق الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ (الانبیاء : 38) کی دلدل انسان کو بہت جلد تھکا کر بے صبر کرنا شروع کر دیتی ہے۔پھر حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ دعا کی قبولیت کے پہلو بھی مختلف ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر قبول ہونے والی دعا اپنی ظاہری صورت میں ہی قبول ہو۔ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم صراحت اور وضاحت کے ساتھ فرماتے ہیں کہ دعا کی قبولیت کی تین امکانی صورتیں ہوتی ہیں۔بعض دعا ئیں تو اپنی ظاہری صورت میں ہی قبول کر لی جاتی ہیں اور بعض اپنی ظاہری صورت میں قبول نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو ظاہری صورت میں قبول کرنے کی بجائے دعا کرنے والے کو کسی آنے والے دنیوی خطرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔یہ گویا دعا کی قبولیت کا منفی پہلو ہے اور بعض اوقات دعا اس رنگ میں قبول ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ تو دعا کو اس کی ظاہری صورت میں قبول کرتا ہے اور نہ ہی اس کے بدلے میں کوئی دنیوی خطرہ دور کر کے قبولیت کا کوئی منفی پہلو پیدا کرتا ہے۔بلکہ دعا کرنے والے کے لئے اگلے جہان میں کوئی خاص نعمت مخصوص کر دیتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مومنوں کے لئے اُخروی زندگی بھی ایسی ہی یقینی ہے جیسی کہ یہ دنیوی زندگی۔بلکہ اہمیت اور طوالت کے زمانہ کے لحاظ سے اس سے بے شمار درجہ بڑھ کر ہے۔پھر بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان جس بات کے لئے دعا کرتا ہے وہ خدا کے علم میں اس کے لئے اچھی نہیں ہوتی۔اس لئے خدا ایسی دعا کور دکر دیتا ہے۔پھر باقی ہمارے دوست کا یہ لکھنا کہ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے سو اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔لیکن ہمارے اس دوست نے غور نہیں کیا۔ورنہ وہ یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کہ دعا تو ہوتی اسی غرض سے ہے کہ خدا سے یہ درخواست کی جائے کہ اے میرے آقا! مجھے یہ کام در پیش ہے۔تو اپنے فضل