مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 202 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 202

مضامین بشیر جلد سوم 202 یعنی اے بھائی! تجھے تو اس وقت دین کی نصرت کا اجر مفت میں مل رہا ہے۔ورنہ یہ ایک خدائی تقدیر ہے جو ہر حال میں پوری ہو کر رہے گی۔تیسری امکانی وجہ تیسری بڑی وجہ اس قسم کے شبہات اور مایوسی کی یہ ہوا کرتی ہے کہ لوگ اپنے ماحول کے جتھوں اور پارٹیوں کو تو ایک قائم شدہ اور پھلے پھولے مضبوط درخت کی صورت میں دیکھتے ہیں۔لیکن اپنی طاقت ان کے سامنے صرف ایک بیچ کی شکل میں نظر آتی ہے۔اور چونکہ ان میں صحیح تخیل کا فقدان ہوتا ہے اس لئے وہ ایک جسیم اور توانا درخت کے مقابلہ پر ایک چھوٹے سے پیج کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔اور ان کے دلوں میں احساس کمتری پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔حالانکہ صحیح اندازہ کرنے کا طریق یہ ہے کہ جس طرح وہ اپنی ابتدا کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔اسی طرح کی سو سال پیچھے جا کر اپنے مقابل کی قوموں کی بھی ابتدا پر نظر ڈالیں تا کہ بیج کے سامنے بیج کو رکھ کر صحیح مواز نہ ہو سکے۔نہ یہ کہ اپنا تو بیچ دیکھا جائے اور دوسری قوموں کا پلا پوسا درخت۔حضرت عیسی علیہ السلام کو ہی لے لو۔آج مسیحیت کا جو عظیم الشان درخت ہمیں نظر آتا ہے۔جس کی شاخیں دنیا بھر کے کونوں کو گھیرے ہوئی ہیں۔اور جس کے سائے میں یورپ اور امریکہ کی قومیں اپنے معراج کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہیں۔اس کی ابتدا کیا تھی ؟ اگر آپ لوگوں کو مسیحیت کی تاریخ سے واقفیت نہیں اور آپ کا تخیل بھی پرواز کی طاقت سے محروم ہو چکا ہے تو خود حضرت مسیح ناصری کی زبان سے سنیے۔اپنی حالت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں اور کس دردناک انداز میں فرماتے ہیں کہ۔لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے۔مگر ابن آدم کے لئے سر دھرنے کی بھی جگہ نہیں۔(متی باب 8 آیت 21) یہ اس ابن آدم کی زندگی کا حال ہے۔جس کی غلامی کا آج یورپ اور امریکہ اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ وغیرہ کی ترقی یافتہ اقوام دم بھرتی اور اس کے سامنے گھٹنے ٹیکتی ہیں۔اور مسیح ناصری کی زندگی کا انجام کیا ہوا؟ یہی نا کہ چند گنتی کے یہودی کا ہنوں اور فریسیوں نے اسے پکڑ کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا اور اس کے منہ پر تھوکا اور اسے بانس کی چھڑیوں سے مارا۔اور بالآخر ایک رومی حاکم کے فیصلہ کے مطابق صلیب پر لٹکا دیا۔جہاں بقول عیسائیوں کے اس نے ایلی ایلِى لِمَا سَبَقْتَانِی (میرے خدا! میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ) کی آہیں بھرتے ہوئے جان دی۔اور اس کے سب حواری جو تعداد میں صرف بارہ کس تھے اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔اور ان میں سے بعض نے اپنے آپ کو بچانے کے لئے