مضامین بشیر (جلد 3) — Page 201
مضامین بشیر جلد سوم 201 اس کے ساتھ ہی فرشتوں کو یہ حکم دیا کہ چونکہ اس آدم کے ذریعہ مجھے دنیا میں اصلاح کا کام کرنا ہے۔اس لئے اب تم سب آدم کی بعثت کے مقاصد کو کامیاب کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو جاؤ۔اور اس کمزور نحیف انسان کو صرف اس کی ظاہری کوششوں پر تنہا نہ چھوڑو۔تب اس الہی حکم کے نتیجہ میں فرشتوں کی تمام روحانی فوج اپنے سارے ساز وسامان کے ساتھ خدائی مصلح کی تائید و نصرت میں لگ جاتی ہے۔اور سوائے شیطان اور اس کے چیلے چانٹوں کے باقی سب مخفی طاقتیں جو نیچر میں ودیعت کی گئی ہیں ابھر کر اور استادہ ہو کر اصلاح کے کام میں مصروف ہو جاتی ہیں۔یہی صورت ہر روحانی مصلح کے وقت میں برسر کار آتی ہے۔اور نیچر کی ان مخفی طاقتوں کے ذریعہ انسانی قوی کو ایک ایسی قوت حاصل ہو جاتی ہے کہ گویا ایک رینگتا ہوا اور ٹھوکریں کھاتا ہوا انسان روح القدس کے پروں پر سوار ہو کر اڑ نے لگ جاتا ہے۔اور دنیا حیران ہوتی ہے کہ اس کمز ور اور نحیف انسان کو یہ خارق عادت کامیابی اور یہ ترقی کس طرح حاصل ہوگئی ؟ قرآن مجید نے جو غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ خندق کے ذکر میں فرشتوں کا مسلمانوں کی تائید میں اترنا بیان کیا ہے اس سے یہی غیبی نصرت مراد تھی۔جس کے ذریعہ کفار کے دل اپنی ظاہری طاقت اور اپنے ظاہری ساز و سامان کے باوجود ان کے سینوں کے اندر بیٹھے جاتے تھے۔اور مسلمانوں کے دل اپنی بے سروسامانی اور کمزوری کے باوجود فتح کی امیدوں سے سرشار تھے۔اور اس کے علاوہ اور بھی کئی رنگ میں مخفی در مخفی آسمانی طاقتیں مسلمانوں کی مدد کر رہی تھیں۔پس اس قسم کے شبہات کی دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض لوگ صرف ظاہری حالات اور ظاہری اسباب کو دیکھ کر ڈرنے لگتے اور مایوسی کی طرف جھکنے لگ جاتے ہیں کہ یہ کمزور انسان اپنے چند گنتی کے ساتھیوں کے ساتھ اور اپنے نہایت درجہ محدود وسائل کی بناء پر ان عظیم الشان طاقتوں اور مہیب خطرات پر کس طرح غالب آسکے گا۔جو اس کے سامنے صف آراء ہیں۔حالانکہ یہ ایک موٹی سی بات ہے کہ اگر کوئی خدا ہے۔اور اگر خدا کوساری طاقتیں حاصل ہیں۔تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ایک کمزور انسان کو دنیا کے متلاطم اور متموج سمندر میں پھینک کر اسے اس کی نہایت درجہ محدود طاقتوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ دے اور پھر اس سے یہ امید رکھے کہ وہ ساری دنیا پر غالب آجائے گا۔یقیناً جب خدا کسی انسان کو دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کرتا ہے تو پھر زمین و آسمان کی تمام مخفی طاقتوں کو اس کی تائید اور نصرت میں لگا دیتا ہے۔یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ به مفت ایس اجر نصرت راد ہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا ( آئینہ کمالات اسلام )