مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 203 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 203

مضامین بشیر جلد سوم 203 مسیح پر لعنت تک کرنے سے دریغ نہیں کیا۔اگر اس ابتداء سے شروع ہونے والا مذہب آج ساری دنیا پر چھا سکتا ہے تو احمدیت کیوں غالب نہیں آسکتی۔جس کے مقدس بانی کی وفات کے وقت چار لاکھ انسان اس کی غلامی کا دم بھرتے تھے اور اس کے بعض خادموں نے اس پر ایمان لانے کی وجہ سے سنگسار جیسی سخت سزا کو برداشت کیا اور حمد کے گیت گاتے ہوئے جان دی۔مگر اپنے آقا کی غلامی سے منہ نہیں موڑا اور ظاہر ہے کہ احمدیت کا غلبہ اسلام ہی کا غلبہ ہے۔کیونکہ احمدیت اسلام سے کوئی جدا گانہ چیز نہیں بلکہ وہ صرف قرآنی شریعت اور حضرت سرور کائنات کی نبوت کی خدمت ہی کے لئے پیدا کی گئی ہے۔فَافُهُمْ وَ تَدَبَّرَ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ چوتھی امکانی وجہ اس قسم کے شبہات کی چوتھی امکانی وجہ یہ ہے کہ لوگ عموما الہی سلسلوں میں جلال اور جمال کے فرق کو نہیں سمجھتے اور اس سنت الہی سے ناواقف ہیں جو جلالی اور جمالی مصلحوں کی ترقی میں علیحدہ علیحدہ کارفرما ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ دوسرے دلائل کے مقابل پر بے بس ہو کر عموماً یہ شبہ پیش کیا کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قائم کردہ جماعت نے تو تمیں چالیس سال کے قلیل عرصہ میں اس وقت کی تمام معلوم اور مہذب دنیا کے قریباً ایک تہائی پر غلبہ پا لیا مگر احمدیت ستر سال گزرنے کے باوجود ابھی تک ہر کہ ومہ کی ٹھوکروں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔اور اس کے عالمگیر غلبہ کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی وغیرہ وغیرہ۔سواس کے جواب میں اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ اول تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آقا ہیں اور حضرت مسیح موعود خادم۔اور آقا اور خادم میں بہر حال فرق ہونا چاہئے۔اور اس فرق کو ہر سچا احمدی نہ صرف جانتا اور پہچانتا ہے بلکہ اس میں فخر محسوس کرتا ہے۔علاوہ ازیں یہ سارا دھوکا جلالی اور جمالی سلسلوں کے فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ہر شخص جس نے الہی سلسلوں کا گہرا مطالعہ کیا ہو۔اُسے اس بات سے واقف ہونا چاہئے کہ روحانی مصلح دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک قسم کے مصلح تو وہ ہیں جن کو کوئی نئی شریعت دے کر بھیجا جاتا ہے۔جیسا کہ مثلاً حضرت موسی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔جو اپنے اپنے وقت میں تو رات اور قرآن مجید کی شریعت لے کر مبعوث ہوئے۔اور دوسری قسم کے مصلح وہ ہیں جنہیں کوئی نئی شریعت نہیں دی جاتی بلکہ وہ صرف سابقہ شریعت کی خدمت اور استحکام کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں جیسا کہ مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ تھے جنہیں کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ وہ علی الترتیب موسوی اور محمدی شریعت کی خدمت کے لئے بھیجے گئے۔شریعت لانے والے نبی جلالی مصلح کہلاتے ہیں